Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 979

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فِي الصَّلَاةِ فَتَرُدُّ عَلَيْنَا فَقَالَ: إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عبد الله بن مسعود قال: كنا نسلم علی النبي صلى الله عليه وسلم وهو في الصلاة فيرد علينا فلما رجعنا من عند النجاشي سلمنا عليه فلم يرد علينا فقلنا: يا رسول الله كنا نسلم عليك في الصلاة فترد علينا فقال: إن في الصلاة لشغلا (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو جب کہ وہ نماز میں ہوتے سلام کرتے تھے آپ ہمیں جواب دیتے تھے ۱؎جب ہم نجاشی کے پاس سے لوٹے ۲؎تو ہم نے آپ کو سلام کیا آپ نے ہمارا جواب نہ دیا ہم نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم ہم آپ کو نماز میں سلام کرتے تھے اور آپ جواب دیتے تھے فرمایا نماز میں مشغولیت ہے۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہجرت سے پہلے نماز میں کلام و سلام سب جائزتھا اس بنا پرحضور علیہ السلام بحالت نماز سلام کا جواب دیتے تھے ان حضرات کے حبشہ جانے کے بعد کلام منسوخ ہوا۔خیال رہے کہ "وَقُوۡمُوۡا لِلہِ قٰنِتِیۡنَ" سورۂ بقر میں ہے سورۂ بقر مدنی ہے لہذا نسخ کلام بعد ہجرت ہوا۔
۲
؎نجاشی بادشاہ حبشہ کا لقب تھا جیسے فرعون بادشاہ مصر کا،حضور علیہ السلام کے زمانہ کے نجاشی کا نام اصحمہ تھا اس نے مظلوم صحابہ کو اپنے ملک میں امن دی اور انہی کے ذریعہ حضور علیہ السلام پر غائبانہ ایمان لایا اور انہی کی معرفت حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں بہت سے تحفے بھیجے،حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان جو ایمان لاکر حبشہ ہجرت کرگئی تھیں،اصحمہہی نے ان کا غائبانہ نکاح حضور علیہ السلام سے کیا،جب حضور علیہ السلام مدینہ پاک تشریف لائے تو حبشہ کے مہاجر صحابہ مدینہ منورہ میں آگئے،ان بزرگوں کو صاحبِ ہجرتین کہتے ہیں،انہی اصحمہ اور ان کے ساتھیوں کا ذکر قرآن کریم نے بہت شان سے کیا ہے۔"وَ اِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَی الرَّسُوۡلِ"۔نجاشی کا انتقال؁۹ھ∞ فتح مکہ سے پہلے حبشہ میں ہوا،جبریل امین نے انکی لاش حضور صلی الله علیہ وسلم کے سامنے کردی حضور علیہ السلام نے غائبانہ جنازہ پڑھا،بہت عرصہ تک ان کی قبر سے انوار نکلتے تھے جس سے رات میں سارا جنگل جگمگاجاتا تھا رضی الله تعالٰی عنہ۔
۳
؎یعنی اب نماز مناجات،عبودیت،اور استغراق سےگھیردی گئی،اس میں نہ کلام ہے نہ سلام۔فقہاء فرماتے ہیں کہ نمازی اشارے سے بھی سلام کا جواب نہیں دے سکتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 979