Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1005

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي تَطَوُّعًا وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ فَجِئْتُ فَاسْتَفْتَحْتُ فَمَشٰى فَفَتَحَ لِي ثُمَّ رَجَعَ إِلٰى مُصَلَّاهُ وَذَكَرْتُ أَنَّ الْبَابَ كَانَ فِي الْقِبْلَةِ. رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَرَوَى النَّسَائِيُّ نَحوَهٗ

وعن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي تطوعا والباب عليه مغلق فجئت فاستفتحت فمشى ففتح لي ثم رجع إلى مصلاه وذكرت أن الباب كان في القبلة. رواه أحمد وأبو داود والترمذي وروى النسائي نحوه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نفل پڑھ رہے تھے ۱؎اور دروازہ آپ پر بند تھا میں آئی دروازہ کھلوایا تو آپ چلے اور میر ے لیے کھول دیا پھر اپنے مصلی کی طرف لوٹ گئے اور آپ نے ذکرکیا کہ دروازہ جانب قبلہ تھا ۲؎(احمد،ابوداود،ترمذی)نسائی نے اس کی مثل روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎نفل کا ذکر بیان واقعہ کے لیے ہے کیونکہ حضور علیہ السلام فرض مسجد میں ادا کرتے تھے نہ کہ حجرہ میں،نماز ٹوٹنے نہ ٹوٹنے میں نفل و فرض کے احکام یکساں ہیں۔
۲
؎لہذا اس دروازہ کھولنے میں نہ آپ کا سینہ قبلہ سے پھرا نہ آپ کو عمل کثیر کرنا پڑا،ایک قدم بڑھا کر ایک ہاتھ سے کنڈی کھولی پھر ایک قدم ہٹاکر نماز کی جگہ پہنچ گئے جیسے اب بھی جب امام یا مقتدی کو آگے پیچھے ہٹایا جاتا ہے وہ ایک قدم سے ہٹ سکتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1005