Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 990

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَقَالَ: «إِنَّمَا الصَّلَاةُ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللهِ فَإِذا كُنْتَ فِيْهَافَلْيَكُنْ ذٰلِكَ شَأْنَكَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وقال: «إنما الصلاة لقراءة القرآن وذكر الله فإذا كنت فيهافليكن ذلك شأنك» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

اور فرمایا کہ نماز قرآن پڑھنے اور الله کے ذکر کے لیے ۱؎جب تم نماز میں ہو تو یہ ہی تمہارا حال ہونا چاہیے۔(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں الله کے ذکر سے مراد تلاو ت کے علاوہ دوسرے اذکار ہیں تسبیحیں اور التحیات وغیرہ۔اس سے معلوم ہوا کہ نمازی کاالتحیاتمیں حضور صلی الله علیہ وسلم کو سلام کرنا بھی الله کا ذکر ہے جس سے نماز ناقص نہیں بلکہ کامل ہوتی ہے ورنہ کسی بندے کو مخاطب کرکے آیت پڑھنا بھی نماز توڑ دیتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 990