Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 992

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَطَسْتُ فَقُلْتُ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَ يَرْضٰى فَلَمَّا صَلّٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ فَقَالَ: «مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ» فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَهَا الثَّانِيَةَ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ فَقَالَ رِفَاعَةُ: أَنَا يَا رَسُوْلَ اللهِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَقَدِ ابْتَدَرَهَا بِضْعَةٌ وَثَلَاثُونَ مَلَكًا أَيُّهُمْ يَصْعَدُ بِهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

وعن رفاعة بن رافع قال: صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فعطست فقلت الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا و يرضى فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف فقال: «من المتكلم في الصلاة» فلم يتكلم أحد ثم قالها الثانية فلم يتكلم أحد ثم قالها الثالثة فقال رفاعة: أنا يا رسول الله . فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «والذي نفسي بيده لقد ابتدرها بضعة وثلاثون ملكا أيهم يصعد بها» . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے رفاعہ ابن رافع سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی میں چھینکا تو کہہ لیا تمام تعریفیں الله کی ہیں زیادہ اچھی اس میں برکت والی اس پر برکت جیسے ہمارا رب چاہے اور راضی ہو ۱؎تو جب حضور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو پھرے اور فرمایا نماز میں کلام کرنے والا کون تھا کوئی نہ بولا پھر دوبارہ یہی فرمایا کوئی نہ بولا پھر سہ بار یہی فرمایا تو رفاعہ نے عرض کیا یارسول الله میں ہوں۲؎تب نبی کریم رؤف و رحیم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس میں تیس اور چند فرشتوں نے جلدی کی کہ کون انہیں لے کر چڑھے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب نماز میں کلام منسوخ نہیں ہوا تھا اب نمازی چھینک پر یہ نہیں کہہ سکتا۔(مرقاۃ)بعض علماء نے فرمایا اب بھی یہ جائز ہے،بعض نے فرمایا دل سے کہے زبان سے نہ کہے مگر پہلی بات زیادہ قوی ہے۔فتح القدیرمیں ہے کہ اگر زبان سے یہ کلمے ادا کیئے تو نماز جاتی رہے گی۔
۲
؎صحابہ کرام کا خاموش ہونا حضور علیہ السلام کی ہیبت کی وجہ سے تھا ورنہ اس وقت نماز میں کلام جائز تھا۔خیال رہے کہ اس حمد کرنے والے کو حضور علیہ السلام نے متکلم فرمایاحَامِدنہ فرمایا۔معلوم ہوا کہ یہ کلام میں شمار ہے اب جیسے اور کلاموں سے نماز فاسد ہوگی ایسے ہی اس سے۔
۳
؎یعنی یہ الفاظ ایسے مقبول ہوئے کہ ہر فرشتہ چاہتا تھا کہ انہیں لے کر بارگاہِ الٰہی میں میں پہلے پیش ہوں۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام کی نگاہ غیبی چیزوں فرشتوں وغیرہ کو بھی دیکھتی ہے اور منہ سے نکلے ہوئے کلمات کو بھی ملاحظہ فرماتی ہیں اور اس ملاحظہ سے آپ کی نماز کے حضور میں کچھ فرق نہیں آتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 992