Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1013

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ مَرَّ عَلیٰ رَجُلٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَرَدَّ الرَّجُلُ كَلَامًا فَرَجَعَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ فَقَالَ لَهٗ : إِذَا سُلِّمَ عَلیٰ أَحَدِكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَا يَتَكَلَّمْ وَلْيُشِرْ بِيَدِهٖ. رَوَاهُ مَالِكٌ

وعن نافع قال: إن عبد الله بن عمر مر علی رجل وهو يصلي فسلم عليه فرد الرجل كلاما فرجع إليه عبد الله بن عمر فقال له : إذا سلم علی أحدكم وهو يصلي فلا يتكلم وليشر بيده. رواه مالك

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الله ابن عمر ایک شخص پر گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا اسے سلام کیا اس نے کلام سے جواب دیا تو اس کی طرف حضرت عبد الله ابن عمر لوٹے اس سے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی پر نماز کی حالت میں سلام کیا جائے تو کلام نہ کرے اپنے ہاتھ سے اشارہ دے ۱؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں اشارے سے سلام کا اشارہ مراد نہیں بلکہ اپنے نماز میں ہونے کا اشارہ مراد ہے یعنی اگر کوئی نمازی کو بے خبری میں سلام کرے تو نمازی بتادے کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں جیسے کہ ضرورت کے وقت مرد نمازی تسبیح کہے اور عورت تصفیق ورنہ سلام کا جواب اشارے سے دینا بھی منع ہے لہذا حدیث واضح ہے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1013