Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1001

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا يَمْسَحِ الْحَصٰى فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ» . رَوَاهُ أَحَمَدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَأَبُو دَاوُدَ وَ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه

وعن أبي ذر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذا قام أحدكم إلى الصلاة فلا يمسح الحصى فإن الرحمة تواجهه» . رواه أحمد والترمذي وأبو داود و النسائي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوذر )رضی الله عنہ( سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی نماز میں کھڑا ہو تو کنکر نہ چھوئے کیونکہ رحمت اس کے سامنے ہے ۱؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کنکروں سے نہ کھیلے،افسوس ہے کہ رب کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہو اور وہ کنکروں کی طرف۔خیال رہے کہ سجدہ گاہ سے کانٹا یا کنکرہٹانا یا زمین ہموار کرنا درست ہے کیونکہ یہ کھیلنے کے لیے نہیں بلکہ نماز کی اصلاح کے لیے ہے۔لیکن صرف ایک بارکرے جیسا کہ پہلے گزر گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1001