Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1007

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهٖ فَلْيَأْخُذْ بِأَنْفِهٖ ثُمَّ لِيَنْصَرِفْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «إذا أحدث أحدكم في صلاته فليأخذ بأنفه ثم لينصرف» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ رضی الله عنھا سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں بے وضو ہوجائے تو اپنی ناک پکڑ لے پھر چلا جائے ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎وضو کرنے کے لیئے ناک پکڑنا اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے ہے تاکہ لوگ سمجھیں کہ اس کی نکسیر پھوٹ گئی۔اس سے معلوم ہوا کہ نکسیر سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ورنہ یہ تدبیر بے کار ہوتی لہذا یہ حدیث حنفیوں کی دلیل ہے اور ناک پکڑنے کا حکم استحبابی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1007