Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 999

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ رَفَعَهٗ قَالَ: «الْعُطَاسُ وَالنُّعَاسُ وَالتَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاةِ وَالْحَيْضُ وَالْقَيْءُ وَالرُّعَافُ مِنَ الشَّيْطَانِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن عدي بن ثابت عن أبيه عن جده رفعه قال: «العطاس والنعاس والتثاؤب في الصلاة والحيض والقيء والرعاف من الشيطان» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عدی ابن ثابت سے ۱؎وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی اسے مرفوع کیا فرماتے ہیں کہ نماز میں چھینک،اونگھ،جمائی،حیض،قے اور نکسیر شیطان سے ہیں ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎تابعی ہیں،انصاری ہیں،کوفی ہیں،ابن حبان اور ابو حاتم نے انہیں ثقہ کہا،بعض محدثین نے کہا ہے کہ یہ غالی شیعہ تھا،شیعوں کی مسجد کا امام تھا انہی کا عالم وقاضی تھا اس کے دادا کا نام دینار ہے جو صحابی تھے۔
۲
؎یعنی یہ وہ چیزیں ہیں کہ جب یہ نماز میں آجائیں تو شیطان ان سے خوش ہوتا ہے کہ میں نے اس کی نماز میں خلل ڈال دیا،ورنہ یہ چیزیں ممنوع ہیں نہیں،قدرتی ہیں بلکہ چھینک تو خدا کی نعمت ہے جب کہ بیماری سے نہ ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 999