Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 993

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «التَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَفِي أُخْرٰى لَهٗ وَلِابْنِ مَاجَهْ: «فَلْيَضَعْ يَدَهٗ عَلیٰ فِيهِ»

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «التثاؤب في الصلاة من الشيطان فإذا تثاءب أحدكم فليكظم ما استطاع» . رواه الترمذي وفي أخرى له ولابن ماجه: «فليضع يده علی فيه»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ نماز میں جمائی شیطان کی طرف سے ہے تو جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو بقدر طاقت دفع کرے ۱؎(ترمذی)اور ترمذی کی دوسری روایت میں اور ابن ماجہ میں ہے کہ اپنا ہاتھ اپنے منہ میں رکھ لے۲؎

شرح حدیث

۱∞؎ہر جمائی شیطان کے اثر سے ہے نماز میں ہو یا باہر مگر چونکہ نماز میں زیادہ بری ہے اس لیے خصوصیت سے اس کا ذکر فرمایا۔جمائی غفلت سے،سستی سے،زیادہ کھانے اور نیند کے غلبہ سے ہوتی ہے اور ان سب میں شیطان کا اثر ہے لہذا یہ فرمانا بالکل حق ہے۔حدیث شریف میں ہے کہ رب تعالٰی چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند اسی لیے چھینک پرالحمدللّٰہپڑھی جاتی ہے اور جمائی پرلاحول،انبیاء کرام جمائی سے محفوظ ہیں۔
۲
؎یعنی اگر جمائی دفع نہ ہوسکے تو بائیں ہتھیلی کی پشت پھیلے ہوئے منہ پر رکھے۔دفع کرنے کی صورتیں عرض کی جاچکیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 993