Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 984

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ قَتَادَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ عَلیٰ عَاتِقِهٖ فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا وَإِذَا رَفَعَ مِنَ السُّجُودِ أَعَادَهَا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي قتادة قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يؤم الناس وأمامة بنت أبي العاص علی عاتقه فإذا ركع وضعها وإذا رفع من السجود أعادها (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو قتادہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا آپ لوگوں کی امامت کرتے تھے اور امامہ بنت ابی العاص آپ کے کندھے پر ہوتیں ۱؎جب رکوع کرتے تو انہیں اتار دیتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو انہیں لوٹا لیتے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی نواسی یعنی حضرت زینب کی بیٹی ہیں۔علی مرتضٰی نے فاطمہ زہرا کی وفات کے بعد آپ سے نکاح کیا،حضور صلی الله علیہ وسلم کو ان سے بڑی محبت تھی حتی کہ کبھی نماز میں بھی آپ کو کندھے پر رکھتے تھے۔
۲
؎حق یہ ہے کہ یہ عمل حضور علیہ السلام کی خصوصیت میں سے ہے ہمارے واسطے مفسد نماز ہے کیونکہ نمازمیں بچی کو اتارنا چڑھانا اور روکنا عمل کثیر سے خالی نہیں،علماء نے اس کی بہت سی توجیہیں کی ہیں مگر جو فقیر نے کہا وہ حق ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 984