Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 983

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ رَفْعِهِمْ أَبْصَارَهُمْ عِنْدَ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ إِلَى السَّمَاءِ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارهم» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لينتهين أقوام عن رفعهم أبصارهم عند الدعاء في الصلاة إلى السماء أو لتخطفن أبصارهم» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قومیں نماز میں دعا کے وقت آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے سے باز رہیں ورنہ ان کی نگاہیں چھین لی جائیں گی ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی نماز میں دعائیہ یا آخری دعا پڑھنے پر نہ ہاتھ اٹھائے نہ آسمان کی طرف نگاہ کہ یہ مکروہ ہے،خارج نماز ہاتھ بھی اٹھائے اور نگاہ بھی کیونکہ آسمان قبلہ دعا ہے جیسے کعبہ قبلہ نماز،سرکار علیہ السلام کا یہ فرمان اظہار آفتاب کے لیے ہیں۔خیال رہے کہ پہلے حضور علیہ السلام نماز میں کبھی آسمان کو دیکھا کرتے تھے جب یہ آیت اتری "الَّذِیۡنَ ھُمْ فِیۡ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوۡنَ" تب چھوڑ دیا۔تبدیلی قبلہ کے وقت حضور علیہ السلام کا نماز میں آسمان کی طرف دیکھنا آپ کی خصوصیت تھی کہ وہ نماز ناز تھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 983