Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 982

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ: «هُوَ اِخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ العَبْدِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الالتفات في الصلاة فقال: «هو اختلاس يختلسه الشيطان من صلاة العبد»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ یہ اچکنا ہے شیطان بندے کی نماز سے اچکتا ہے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ نماز میں کعبہ سے سینہ پھر جانا نماز کو توڑ دیتا ہے،صرف چہرہ پھرنا مکروہ ہے،کنکھیوں سے ادھر ادھر دیکھنا خلاف مستحب۔یہاں التفات سے غالبًا دوسرے معنے مراد ہیں جو مکروہ ہیں۔ممکن ہے تیسرے معنے مراد ہوں،ابھی معاویہ ابن حکم کی روایت میں گزر چکا کہ صحابہ نے انہیں گوشہ چشم سے دیکھا۔بعض روایات میں ہے کہ حضور علیہ السلام بھی کبھی اس طرح دیکھتے تھے وہ سب بیان جواز کے لیے ہے اور یہ حدیث بیان استحباب کے لیئے لہذا حدیثوں میں تعارض نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 982