Main Icon

باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5834

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ أَبَا جَهْلٍ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إنَّا لَا نُكذِّبكَ وَلٰكِنْ نُكَذِّبُ بِمَا جِئْتَ بِهٖ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰى فِيهِمْ: فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلٰكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللّٰهِ يَجْحَدُونَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن علي أن أبا جهل قال للنبي صلى الله عليه وسلم : إنا لا نكذبك ولكن نكذب بما جئت به فأنزل الله تعالى فيهم: فإنهم لا يكذبونك ولكن الظالمين بآيات الله يجحدون رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے کہ ابوجہل نے ۱؎نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا کہ ہم آپ کو نہیں جھٹلاتے ۲؎لیکن ہم تو اسے جھٹلاتے ہیں جو آپ لائے ہیں ۳؎تب اللہ تعالٰی نے ان کے بارے میں آیت اتاری کہ یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے لیکن ظالم لوگ اللہ کی آیتوں کا انکارکرتے ہیں ۴؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎ابوجہل کا نام عمرو ابن ہشام تھا،قریش مکہ کا سردار تھا،بڑا سخت دل حضور انور کا دشمن تھا،حضور انور نے اس کو ابوجہل کہا یعنی جہالت والا۔ابو کے معنی باپ نہیں بلکہ اس کے معنی ہیں والا جیسے ابو ہریرہ بلی والا،ابوبکر ہر نیکی میں اوّلیت والے ایسے ہی ابوجہل حماقت و جہالت والا،لوگ اسے ابوالحکم کہتے تھے حضور انور نے ابوجہل کہا تووہ ابوجہل ہی ہوکر رہ گیا۔
۲
؎یہ ہے حضور انور کی سچائی کی دھاک جو کفار کے دل میں بیٹھی ہوئی تھی یعنی ہم نے آپ کی زبان پرکبھی جھوٹ آتے نہیں دیکھا ہماری عقل نہیں قبول کرتی کہ آپ کی زبان جھوٹ کہے۔
۳
؎اس عبارت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہبما جئتمیںبسببیہ ہو اورنکذبکا مفعول پوشیدہ ہو یعنی ہم آپ کو اس قرآن مجید کی وجہ سے جھوٹا کہتے ہیں اگر آپ قرآن سنانا چھوڑ دیں تو ہم آپ کو جھوٹا کہنا چھوڑ دیں۔ دوسرے یہ کہبمامفعول ہےنکذبکا یعنی ہم تو اس قرآن کو جھوٹا کہتے ہیں نہ کہ آپ کو۔تب اس کا مطلب یہ ہے کہ جو فرشتہ آپ کو قرآن لاکر سناتا ہے وہ فرشتہ نہیں ہے کوئی جن وغیرہ جھوٹی مخلوق ہے وہ آپ سے جھوٹ بول جاتا کہ یہ کلام الٰہی ہے ہم اس کو اور اس کلام کو جھوٹا کہتے ہیں آپ دھوکا کھا گئے ہیں لہذا اس قول پر یہ اعتراض نہیں کہ جب وہ حضور کے متعلق یہ کہتا تھا کہ آپ کا یہ کہنا قرآن کلام الٰہی ہے جھوٹ ہے تو پھر اس نے حضور انور کو جھوٹا کہہ دیا پھرلا نکذبكکے کیا معنی۔
۴
؎ایک بار ابوجہل کا خاص دوست اخنس ابن شریق اسے علیحدگی میں لے گیا اور بولا کہ یہاں کوئی نہیں ہے سچ کہہ دے کہ محمد مصطفی سچے ہیں یا نہیں وہ بولا ہیں تو وہ بالکل سچے،اخنس بولا پھر تو انہیں مانتا کیوں نہیں وہ بولا کہ قصی کی اولاد میں پہلے ہی سے کعبہ کی کلید برداری حجاج کو پانی پلانا اور دوسری شرافتیں حاصل ہے اگر نبوت بھی ان میں چلی گئی تو دوسرے قریشیوں کے لیے کون سی عزت باقی بچے گی اس پر یہ آیات اتری لہذا اس آیت کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ یہ آیت الہیہ کی وجہ سے آپ کو جھٹلاتے ہیں، یہ حاسد ہیں اگر آپ قرآن نہ سناتے یہ آپ کو جھوٹا نہ کہتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5834