Main Icon

باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5805

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: مَا سُئِلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ: لَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن جابر قال: ما سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا قط فقال: لا. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز نہ مانگی گئی کہ حضور نے فرمایا ہو نہیں ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضور انور نے کسی سائل بھکاری کو یہ کبھی نہیں فرمایا کہ ہم تم کو نہیں دیں گے اگر وہ چیز ہو تو عطا فرمادی ورنہ یا خاموشی اختیار کی یا آئندہ کے لیے وعدہ فرمالیا یا معذرت کردی لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُکُمْ عَلَیۡهِ"کہ آیت کریمہ میں معذرت کالاہے اور یہاں انکار کالامراد ہے۔فرزق شاعر نے حضور کی نعت میں عرض کیا شعرما قال لا قط الافی تشھدہ لولا التشھد کانت لاءہ نعمکسی نے اس کا ترجمہ یوں کیا۔شعر
نرفت کلمہ لا بر زبان اوہرگز مگر بہ اشہد ان لا الٰہ الا اللہ
یعنی حضور انور نے بجز کلمہ طیبہ کے
لاانکار کے لیے بھی ارشاد نہ فرمایا۔آج بھی حضور سے مانگ کر دیکھ لو محروم نہ پھرو گے،یہ تو کوئی مجھ سے پوچھے میں نے بہت تجربہ کیا ہے ہم نے عرض کیا ہے۔شعر
زمانہ نے زمانہ میں سخی ایسا کہیں دیکھا زبان پر جس کے سائل نے نہیں آتے نہیں دیکھا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5805