باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5831
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُهٗ مُسْتَرْضَعًا فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ فَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهٗ فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ وَإِنَّهٗ لَيُدَّخَنُ وَكَانَ ظِئْرُهٗ قَيْنًا فَيَأْخُذُهٗ فَيُقَبِّلُهٗ ثُمَّ يَرْجِعُ. قَالَ عَمْرٌو: فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي وَإِنَّهٗ مَاتَ فِي الثَّدْيِ وَإِنَّ لَهٗ لَظِئْرَيْنِ تُكْمِلَانِ رَضَاعَهٗ فِي الْجَنَّةِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
عن عمرو بن سعيد عن أنس قال: ما رأيت أحدا كان أرحم بالعيال من رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إبراهيم ابنه مسترضعا في عوالي المدينة فكان ينطلق ونحن معه فيدخل البيت وإنه ليدخن وكان ظئره قينا فيأخذه فيقبله ثم يرجع. قال عمرو: فلما توفي إبراهيم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن إبراهيم ابني وإنه مات في الثدي وإن له لظئرين تكملان رضاعه في الجنة . رواه مسلم
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عمرو ابن سعید سے وہ حضرت انس سے راوی ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کو نہ دیکھا جو بال بچوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مہربان ہو ۱؎آپ کے فرزند ابراہیم۲؎بیرون مدینہ میں شیرخوارگی کرتے تھے ۳؎تو آپ تشریف لے جاتے تھے ہم آپ کے ساتھ ہوتے تھے آپ گھر میں تشریف لے جاتے حالانکہ وہاں دھواں ہوتا تھا ان کا رضاعی والد لوہار تھا ۴؎آپ بچے کو لیتے اسے چومتے پھر لوٹ آتے ۵؎حضرت عمرو نے فرمایا پھر جب ابراہیم وفات پاگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا بچہ ابراہیم شیرخوارگی میں وفات پاگیا ۶؎اس کے لیے دو دوائیاں مقرر ہیں جو اس کی شیر خوارگی جنت میں پوری کریں ۷؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎عیالبنا ہےعولسے بمعنی پرورش ہر پروردہ پالنے والے کا عیال ہے،رب فرماتاہے:"وَ وَجَدَكَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی"ہم نے آپ کو بڑا عیال والا پایا تو غنی کردیا۔یہاں عیال سے مراد یا تو بیویاں بچے ہیں یا ساری حضور کی امت ہے کہ سب لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردہ ہیں۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ بعض نسخوں میںبالعبادہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بال بچوں پر بہت ہی مہربان تھے یا اپنی امت پر بہت ہی مہربان ہیں،پہلے معنی کی تائید تو اگلا واقعہ کررہا ہے دوسرے معنی کی تائید وہ آیت ہے"بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ"۔
۲؎حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چار بیٹے تھے اور چار بیٹیاں: بیٹے تو طیب،طاہر،قاسم،ابراہیم ہیں۔صاحبزادیاں زینب،رقیہ، کلثوم،فاطمہ ہیں رضی اللہ عنہم ساری اولاد حضرت خدیجۃ الکبری کے بطن شریف سے تھیں سوائے حضرت ابراہیم کے کہ وہ جناب ماریہ قبطیہ کے بطن شریف سے تھے۔حضور کی زندگی شریف میں ساری اولاد وفات پاگئی تھیں سواء جناب فاطمہ زہرا کے جو حضور کی وفات کے صرف پانچ ماہ کچھ دن بعد وفات پاگئیں۔
۳؎عوالی جمع ہے عالیہ کی بمعنی بلند جگہ عوالی مدینہ بستی مدینہ کے آس پاس کے وہ مقام جو مدینہ منورہ سے ملحق ہیں چونکہ وہ زمین مدینہ سے قدرے بلند ہے اس لیے انہیں عوالی کہتے ہیں۔مسجد قبا،بنی قریظہ اس عوالی میں واقع ہیں،اس فقیر نے عوالی مدینہ کی بارہا زیارت کی ہے۔
۴؎حضرت ابراہیم ابن رسول اللہ کی دایہ دودھ کی ماں کا نام ام یوسف تھا اور اس کے شوہر کا نام براہ ابن اوس انصاری تھا،کنیت ابو سمین تھی،لقب قین تھا یعنی لوہار کیونکہ وہ لوہاری پیشہ کرتے تھے اس لیے انکے گھر میں دھواں بھی ہوتا تھا۔اس گنہگار نے اس گھر کی زیارت کی ہے،جنت بقیع سے قریبًا نصف میل ہے۔خیال رہے کہظئردایہ کو بھی کہتے ہیں اور دایہ کے خاوند کو بھی،یہاںظئردوسرے معنی میں ہیں۔
۵؎یعنی حضور انور ہفتہ عشرہ میں ابوسمین کے گھر اپنا بچہ ابراہیم دیکھنے جاتے وہاں باوجود دھوئیں کے کچھ دیر تشریف رکھتے،فرزند کو چومتے پیار کرتے،پھر واپس تشریف لے آتے تھے۔
۶؎خیال رہے کہ حضرت ماریہ قبطیہ حضور انور کی لونڈی تھیں جنہیں مصرواسکندریہ کے بادشاہ مقوقش قبطی نے حضور انور کی خدمت میں بطور تحفہ پیش کیا تھا،ذی الحجہ ۸ ∞ آٹھ میں انہیں کے بطن شریف سے حضرت ابراہیم پیدا ہوئے تھے۔یہ سب مانتے ہیں کہ جناب ابراہیم شیرخوارگی میں فوت ہوئے،اس میں اختلاف ہے کہ اس وقت آپ کی عمر کیا تھی غالبًا سولہ یا سترہ ماہ تھی جیساکہ مرقات وغیرہ میں ہے۔
۷؎یعنی حضرت ابراہیم وفات پاتے ہی جنت میں پہنچا دیئے گئے اور دو صاحبہ وہاں انہیں دودھ پلانے کے لیے مقرر کردی گئیں جو انہیں بقیہ ماہ دودھ پلائیں گی اپنا دودھ یا جنت کی نہر کا دودھ یہ جناب ابراہیم کی خصوصیت ہے۔بعض روایات میں ہے کہ اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے۔اس حدیث کو اکثر محدثین نے محض باطل و موضوع کہا ہے،اگر صحیح بھی ہو تو یہ حضرت ابراہیم کی خصوصیت ہے ورنہ گذشتہ نبیوں کے سارے بیٹے نبی نہیں ہوئے ہیں،نیز اس سے لازم یہ نہیں آتا کہ حضور خاتم النبیین نہ ہوں کیونکہ اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ جناب ابراہیم زندہ نہیں رہ سکتے تھے کیونکہ اگر وہ زندہ رہتے تو نبی ہوتے اور میرے بعد کوئی نبی نہیں لہذا وہ زندہ نہیں رہ سکتے تھے۔(مرقات)غرضکہ یہ حدیث امام نووی ابن عبدالبر وغیرہم محدثین کے نزدیک موضوع ہے،بعض محدثین نے اسے مرفوعًا صحیح مانا اور مطلب وہ بتایا جو ابھی ہم نے عرض کیا۔(مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5831