Main Icon

باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5833

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أَبِي أَوْفٰى قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ الذِّكْرَ وَيُقِلُّ اللَّغْوَ وَيُطِيلُ الصَّلَاةَ وَيُقْصِرُ الْخُطْبَةَ وَلَا يَأْنَفُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَ الْأَرْمَلَةِ و وَالْمِسْكِينِ فَيَقْضِيَ لَهُ الْحَاجَةَ. رَوَاهُ النَّسَائِيّ وَالدَّارِمِيُّ

وعن عبد الله بن أبي أوفى قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكثر الذكر ويقل اللغو ويطيل الصلاة ويقصر الخطبة ولا يأنف أن يمشي مع الأرملة و والمسكين فيقضي له الحاجة. رواه النسائي والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذکر زیادہ کرتے تھے اور دنیاوی کلام بہت کم کرتے تھے ۱؎اور نماز دراز کرتے تھے اور خطبہ چھوٹا پڑھتے تھے۲؎اور بیوگان، مساکین کے ساتھ چلنے سے عار نہیں سمجھتے تھے کہ ان کی حاجت پوری فرمادیں۳؎(نسائی، دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہلغوکے معنی ہیں بے کار کام یا بے کار کلام،یہاں کلام دنیا کو لغو فرمایا ذکر اللہ کے مقابلہ میں وہ بھی حضور انور کی نسبت ہے ورنہ حضور انور کی دنیا عین دین ہے۔حضور کے دنیاوی کام ہماری ہزارہا عبادات سے افضل ہیں حتی کہ حضور انور کا مزاح(خوش طبعی کی باتیں)بھی دین تھیں کہ ان میں بھی تبلیغ تھی ہم کو مزاح دکھانا مقصود تھا۔
۲
؎یعنی جمعہ اور عیدین کے خطبے چھوٹے پڑھتے تھے نمازیں دراز کیونکہ نماز میں رب تعالٰی سے ہم کلامی ہوتی ہے وہ معراج مؤمن ہے اور خطبہ میں لوگوں سے خطاب کم ہی اچھا ہے رب سے ہم کلامی دراز ہی بہتر ہے۔(از مرقات)ا ب بھی سنت یہ ہی ہے۔
۳
؎یعنی حضور انور کو غریبوں،یتیموں،مسافروں،بیوگان کے ساتھ رہنے سہنے،چلنے پھرنے،ان کا کام کرنے میں کوئی عار نہ تھی، فرشتوں کے بھی ہم نشین تھے عابدوں زاہدوں کے بھی اور گنہگاروں مساکین کے بھی۔شعر
شاهِ باز لامکانی آن او رحمت للعالمین درشان او

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5833