Main Icon

باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5825

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَّخِرُ شَيْئًا لِغَدٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان لا يدخر شيئا لغد. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل کے لیے کوئی چیز ذخیرہ نہ کرتے تھے ۱؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اپنی ذات کریم کے لیے کوئی چیز کل کے لیے نہ رکھتے،روزانہ حالت یہ ہوتی تھی کہ نیا روز نئی روزی یہ انتہائی توکل ہے۔رہا مہمانوں اور گھر والوں کا معاملہ اس کے متعلق طریقہ یہ تھا کہ فتح خیبر سے پہلے تو گھر شریف میں بھی کچھ نہ ہوتاتھا دو دو ماہ صرف کھجوروں اور پانی پر گزارہ کبھی بالکل فاقہ۔شعر
اور کبھی تھوڑے چھوارے کھانا پانی پی کر پھر رہ جانا دو دو مہینے یوں ہی گزارا صلی اللہ علیہ وسلم
جس کی تمنا روز نہ کھانا اک دن فاقہ اک دن کھانا جس دن کھانا شکر کا کرنا صلی اللہ علیہ وسلم
مگر فتح خیبر کے بعد ہر بی بی صاحبہ کو ایک سال کے لیے جو اور کھجوریں عطا فرمادیتے تھے وہ ذخیرہ بال بچوں اور مہمانوں کے لیے ہوتا تھا۔(مرقات و اشعہ)لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں کیونکہ سب کو تو حضور کا سا توکل میسر نہیں۔شعر
ہوسیا آداب دانا دیگر اند سوختہ جان در داناں دیگر اند

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5825