Main Icon

باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5828

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْرُدُ سَرْدَكُمْ هٰذَاوَلَكِنَّهٗ كَانَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ بَيْنَهٗ فَصْلٌ يَحْفَظُهٗ مَنْ جَلَسَ إِلَيْهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن عائشة قالت: ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسرد سردكم هذاولكنه كان يتكلم بكلام بينه فصل يحفظه من جلس إليه. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری اس جلدی کی طرح کلام میں جلدی نہیں کرتے تھے ۱؎لیکن ایسے کلام کرتے تھے جس کے درمیان فاصلہ ہوتا تھا جو آپ کی خدمت میں بیٹھتا وہ حفظ کرلیتا تھا ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضور کے کلام اور کلمات مسلسل نہیں ہوتے تھے جیسے عام لوگ لگاتار کلام کرتے ہیں بلکہ ایک بات بتائی پھر کچھ خاموشی پھر دوسری بات اور ان دو باتوں کے درمیان اللہ کا ذکر۔
۲
؎صحابہ کرام کو احادیث قرآن مجید کی طرح حفظ تھیں اسی وجہ سے تو احادیث جمع ہوئیں،اس جمع ہونے کی بڑی وجہ حضور انور کا یہ وقار سے کلام فرمانا تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5828