Main Icon

باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5820

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ:لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا سَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلٰكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن عائشة رضي الله عنها قالت:لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم فاحشا ولا متفحشا ولا سخابا في الأسواق ولا يجزي بالسيئة السيئة ولكن يعفو ويصفح. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو عادۃً بری باتیں کرتے تھے اور نہ تکلفًا ۱؎نہ بازاروں میں شورکرنے والے تھے۲؎اور برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے لیکن معافی دیتے تھے اور درگزر کرتے تھے۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎فحشکے معنی ہیں حد سے بڑھی ہوئی بات،اکثر گالی کو فحش کہتے ہیں۔بعض لوگوں کے منہ سے عادۃً گالیاں نکلتی رہتی ہیں انہیں خیال بھی نہیں ہوتا کہ میرے منہ سے گالی نکل رہی ہے،بعض لوگ گالی گفتاری کے ایسے عادی تو نہیں ہوتے مگر وہ غصہ میں گالیاں بک دیتے ہیں۔پہلی قسم کے لوگ فاحش کہلاتے ہیں،دوسری قسم کے لوگمتفحش۔اللہ تعالٰی نے اپنے اس ستھرے پاکیزہ طیب و طاہر نبی کو ان دونوں عیبوں سے محفوظ رکھا تھا۔
۲
؎حضور انور کبھی بازار تشریف لے جاتے تھے مگر تاجروں گاہکوں کو احکام شرعیہ کی تبلیغ کرنے کے لیے کبھی خرید و فروخت بھی فرماتے تھے۔یہاں اس کی نفی ہے کہ جیسے بعض لوگوں کو بازار میں پھرنے گھومنے بلا وجہ چیزوں کا بھاؤ پوچھنے کی عادت ہوتی ہے اس سے حضور محفوظ تھے۔
۳
؎عفوکے معنی ہیں معافی دینا سزا نہ دینا۔صفحکے معنی ہیں دیکھی کو ان دیکھی بنا دینا،مجرم کی طرف سے منہ پھیر لینا جیسے دیکھا ہی نہیں،اس سے سامنے والے پر بڑا ہی رعب پڑتا ہے ہر بات کی گرفت کرنے سے رعب جاتا رہتا ہے۔بڑے بننے کے لیے صفح درگزر ضروری ہےفرماتاہے:"فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیۡنَ"۔حضور انور اس آیت کے نزول سے پہلے ہی اس پر عامل تھے حضور انور بچپن شریف میں نماز پڑھتے تھے اور قریبًا سارے احکام شرعیہ پر عامل تھے فطری طور پر۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5820