Main Icon

باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5821

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ يُحَدِّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ كَانَ يَعُودُ المَرِيْضَ، وَيَتْبَعُ الْجِنَازَةَ، وَيُجِيبُ دَعْوَةَ الْمَمْلُوكِ، وَيَرْكَبُ الْحِمَارَ لَقَدْ رَأَيْتُهٗ يَوْمَ خَيْبَرَ عَلٰى حِمَارٍ خِطَامُهٗ لِيفٌ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»

وعن أنس يحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان يعود المريض، ويتبع الجنازة، ويجيب دعوة المملوك، ويركب الحمار لقد رأيته يوم خيبر على حمار خطامه ليف. رواه ابن ماجه والبيهقي في «شعب الإيمان»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی ہیں کہ آپ بیماروں کی مزاج پرسی کرتے تھے اور جنازوں کے ساتھ جاتے تھے ۱؎غلام کی دعوت قبول کرلیتے تھے۲؎اور دراز گوش پر سوار ہوتے تھے میں نے خیبر کے دن دیکھا آپ ایک گدھے پر سوار تھے جس کی مہار پوست کھجور کی تھی ۳؎(ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎حضور انور نے بیمار پرسی بعض کفار کی بھی کی ہے مگر جنازہ میں شرکت صرف مسلمانوں کے ہی کی ہے حتی کہ ابو طالب کا انتقال ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایاواد اباك فی التراباپنے باپ کو مٹی میں داب دو اگرچہ حضور کو ان کے انتقال کا صدمہ بہت ہی ہوا تھا۔
۲
؎یہاں مملوک سے مراد یا تو آزاد کردہ غلام ہے یا عبد مأذون جسے تجارت وغیرہ کی اجازت مولٰی سے مل گئی ہو یا مطلب یہ ہے کہ غلام کا مولٰی اپنے غلام کے ذریعہ حضور انور کی دعوت کرتا تو بھی قبول فرمالیتے تھے۔(مرقات)پہلے دو معنی زیادہ قوی ہیں۔غرضیکہ طبیعت میں بڑائی شیخی تکبر بالکل نہ تھا مگر خیال رہے کہ حضور انور نے کفار کے ہدیے قبول فرمادیئے ہیں،انہیں تحفے دیئے بھی ہیں لیکن کفار کے گھر دعوت قبول کرنے کا ثبوت نہیں ملتا خصوصًا جب کہ ان کی محبت کی بنا پر ہو۔
۳
؎گدھے کی سواری خصوصًا جب کہ اس کی لگام کھجور کے پوست کی ہو بہت معمولی سمجھ جاتی تھی۔حضور انور فاتح خیبر ہیں مگر ایسی معمولی سواری پر سوار ہیں جس سے معلوم ہوا کہ دنیا کی شان و شوکت سلطنت حضور کے قلب پاک کو نہ بدل سکی،سب کو دنیا بدلتی ہے مگر حضور نے دنیا کو بدل دیا خود دنیا سے نہ بدلے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5821