Main Icon

باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5816

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ: كَانَ يَكُونُ فِي مَهْنَةِ أَهْلِهٖ تَعْنِي خِدْمَةَ أَهْلِهٖ فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن الأسود قال: سألت عائشة: ما كان النبي صلى الله عليه وسلم يصنع في بيته؟ قالت: كان يكون في مهنة أهله تعني خدمة أهله فإذا حضرت الصلاة خرج إلى الصلاة. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے اسود سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے جناب عائشہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے ۲؎آپ نے کہا کہ اپنے گھر کے کام کاج میں مشغول رہتے تھے یعنی گھر والوں کا کام کرتے تھے ۳؎پھر جب نماز آجاتی تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے ۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ اسود بن حلال محاربی ہیں،عظیم الشان تابعی ہیں،آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بھی پایا خلفاء اربعہ کو بھی دیکھا،بڑے بڑے صحابہ سے ملاقات کی،اسی۸۰ حج و عمرے کیے،آخر ی زمانہ میں صائم الدھر قائم اللیل تھے،ہر شب ایک قرآن مجید ختم کرتے تھے،بڑے فقیہ تھے۔
۲
؎معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات حضور انور کی بیرونی اور اندرونی زندگی کے حافظ ہونا چاہتے تھے اور امت تک پہنچانا چاہتے تھے اس لیے بیرونی زندگی شریف صحابہ کرام سے پوچھتے تھے اور اندرونی زندگی ازواج پاک سے خصوصًا ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے۔
۳
؎مھنۃبروزن کلمہ بمعنی کام کاج خدمت یعنی حضور انور اپنے گھر کے کسی کام میں تکلف نہیں کرتے تھے،بکری دوھ لیتے،اپنے کپڑے دھولیتے تھے،پھٹے کپڑے پھٹی نعلین شریف میں پیوند لگالیتے تھے۔معلوم ہوا کہ گھر میں کام کرلینا صالحین کا طریقہ ہے کسی جائز کام میں تکلف نہیں چاہیئے۔
۴
؎یعنی جب نماز جماعت کا وقت آتا تو سارے کام چھوڑ دیتے گھر بار سے منہ موڑ لیتے جیسے کسی کو جانتے ہی نہیں اور مسجد تشریف لے جاتے یہ ہی سنت ہے،اللہ ایسی زندگی نصیب فرمائے۔(مرقات)شعر
اپنےکپڑےخود دھولیناخاک کےبستر پرسولینا سادہ سادہ نیک طبیعت صلی اللہ علیہ وسلم

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5816