Main Icon

باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5826

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلَ الصَّمْتِ. رَوَاهُ فِي « شَرْحِ السُّنَّةِ »

وعن جابر بن سمرة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم طويل الصمت. رواه في « شرح السنة »

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دراز خاموشی والے تھے ۱؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎خاموشی سے مراد ہے دنیاوی کلام سے خاموشی ورنہ حضور اقدس کی زبان شریف اللہ کے ذکر میں تر رہتی تھی لوگوں سے بلا ضرورت کلام نہیں فرماتے تھے یہ ذکر ہے جائز کلام کا ناجائز کلام تو عمر بھر زبان شریف پر آیا ہی نہیں جھوٹ، غیبت،چغلی وغیرہ ساری عمر شریف میں ایک بار بھی زبان مبارک پر نہ آیا۔حضور سراپا حق ہیں پھر آپ تک باطل کی رسائی کیسے ہو۔آم کے درخت میں جامن نہیں لگتے،بار دار درخت خار دار نہیں ہوتےخود فرماتا ہے کہ جو بھی کلام کرے تو خیر کلام کرے ورنہ خاموش رہے،حضرت ابوبکر صدیق فرماتے ہیں کاش میں گونگا ہوتا مگر حق بات سے۔ (مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5826