Main Icon

باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5808

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الغَدَاةَ جَاءَ خَدَمُ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَاءُ فَمَا يَأْتُونَ بِإِنَاءٍ إِلَّا غَمَسَ يَدَهٗ فِيهَا، فَرُبَّمَا جَاؤُوْهُ بِالْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ فَيَغْمِسُ يَدَهٗ فِيهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أنس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا صلى الغداة جاء خدم المدينة بآنيتهم فيها الماء فما يأتون بإناء إلا غمس يده فيها، فربما جاؤوه بالغداة الباردة فيغمس يده فيها. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھتے تھے تو ان کے پاس مدینہ کے لونڈی غلام اپنے برتن لے آتے تھے جن میں پانی ہوتا تھا ۱؎تو وہ کوئی برتن نہ لاتے مگر حضور اس میں اپنا ہاتھ ڈبو دیتے تو بہت دفعہ وہ لوگ آپ کے پاس بہت ٹھنڈی صبح کو پانی لاتے آپ ان میں اپنا ہاتھ ڈبو دیتے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اہل مدینہ اپنے لونڈی غلاموں کو پانی کے برتن لے کر بھیج دیتے تھے وہ دروازہ مسجد پر کھڑے ہوجاتے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھ کر نکلتے اور ان برتنوں میں اپنی انگلیاں ڈالتے جاتے تھے۔
۲
؎یہ پانی اہلِ مدینہ اپنے بیماروں کو شفا کے لیے پلاتے تھے اس میں بیان ہوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حمیدہ کا۔اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کے تبرکات سے شفاء حاصل کرنا جائز بلکہ سنت صحابہ ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ جس چیز میں بزرگوں کا ہاتھ لگ جاوےوہ تبرک ہوجاتا ہے،قرآن کریم میں ہے:"وَجَعَلَنِیۡ مُبَارَکًا اَیۡنَ مَا کُنۡتُ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5808