باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5832
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَليٍّ: أَنَّ يَهُودِيًّا يُقَالُ لَهٗ: فُلَانٌ حَبْرٌ كَانَ لَهٗ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَنَانِيرُ فَتَقَاضَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهٗ: «يَا يَهُودِيُّ مَا عِنْدِي مَا أُعْطِيكَ» . قَالَ: فَإِنِّي لَا أُفَارِقُكَ يَا مُحَمَّدُ حَتّٰى تُعْطِيَنِي. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذًا أَجْلِسُ مَعَكَ» فَجَلَسَ مَعَهٗ فَصَلّٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ وَالْغَدَاةَ وَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَدَّدُونَهٗ وَيَتَوَعَّدُونَهٗ فَفَطِنَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا الَّذِي يَصْنَعُونَ بِهٖ. فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ يَهُودِيٌّ يَحْبِسُكَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنَعَنِي رَبِّي أَنْ أَظْلِمَ مُعَاهِدًا وَغَيْرَهُ» فَلَمَّا تَرَجَّلَ النَّهَارُ قَالَ الْيَهُودِيُّ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللّٰهِ وَشَطْرُ مَالِي فِي سَبِيلِ اللهِ أَمَا وَاللّٰهِ مَا فَعَلْتُ بِكَ الَّذِي فَعَلْتُ بِكَ إِلَّا لِأَنْظُرَ إِلٰى نَعْتِكَ فِي التَّوْرَاةِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ مَوْلِدُهٗ بِمَكَّةَ وَمُهَاجَرُهٗ بِطَيْبَةَ وَمُلْكُهٗ بِالشَّامِ لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ وَلَا سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا مُتَزَيٍّ بِالْفُحْشِ وَلَا قَوْلِ الْخَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللّٰهِ وَهٰذَامَالِي فَاحْكُمْ فِيهِ بِمَا أَرَاكَ اللّٰهُ وَكَانَ الْيَهُودِيُّ كَثِيرَ المَالِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ»
وعن علي: أن يهوديا يقال له: فلان حبر كان له على رسول الله صلى الله عليه وسلم دنانير فتقاضى النبي صلى الله عليه وسلم فقال له: «يا يهودي ما عندي ما أعطيك» . قال: فإني لا أفارقك يا محمد حتى تعطيني. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا أجلس معك» فجلس معه فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر والعصر والمغرب والعشاء الآخرة والغداة وكان أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يتهددونه ويتوعدونه ففطن رسول الله صلى الله عليه وسلم ما الذي يصنعون به. فقالوا: يا رسول الله يهودي يحبسك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «منعني ربي أن أظلم معاهدا وغيره» فلما ترجل النهار قال اليهودي: أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أنك رسول الله وشطر مالي في سبيل الله أما والله ما فعلت بك الذي فعلت بك إلا لأنظر إلى نعتك في التوراة: محمد بن عبد الله مولده بمكة ومهاجره بطيبة وملكه بالشام ليس بفظ ولا غليظ ولا سخاب في الأسواق ولا متزي بالفحش ولا قول الخنا أشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله وهذامالي فاحكم فيه بما أراك الله وكان اليهودي كثير المال. رواه البيهقي في «دلائل النبوة»
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت علی سے کہ ایک یہودی جس کا نام فلاں پادری تھا ۱؎اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ دینار قرض تھے۲؎اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تقاضا کیا۳؎حضور نے اس سے فرمایا کہ اے یہودی میرے پاس کچھ نہیں ہے جو تجھے دوں۴؎وہ بولا کہ میں آپ کو چھوڑوں گا نہیں حتی کہ آپ مجھے قرضہ ادا کردیں ۵؎تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تب تو میں تیرے ساتھ ہی بیٹھوں گا آپ اس کے ساتھ بیٹھ گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر عصر مغرب عشاء آخری اور فجر کی نمازیں پڑھیں ۶؎اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اسے ڈراتے دھمکاتے تھے۷؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا ۸؎جو وہ اس کے ساتھ کرتے تھے،صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ایک یہودی آپ کو روکے ہوئے ہے ۹؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے میرے رب نے اس سے منع فرمایا ہے کہ کسی عہد والے کافر وغیرہ پر ظلم کروں۱۰؎پھر جب دن چڑھ گیا تو یہودی بولا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی مبعود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں ۱۱؎اور میرا آدھا مال اللہ کی راہ میں ہے ۱۲؎حضور جو کچھ میں نے آپ کے ساتھ برتاؤ کیا یہ صرف اس لیے کہ میں آپ میں صفات دیکھ لوں جو توریت میں ہیں ۱۳؎کہ محمدعبداللہ کے بیٹے ہیں،ان کی جائے ولادت مکہ اور جائے ہجرت طیبہ ہے اور ان کی سلطنت شام میں ہے ۱۴؎نہ تو سخت دل ہیں نہ سخت زبان اور نہ بازاروں میں شور مچانے والے،نہ تو بری باتوں سے متصف ہیں اور نہ سخت کلام برے کلام سے۱۵؎میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ ہے میرا مال آپ اس میں وہ فیصلہ فرمائیں جو اللہ آپ کو دکھائے ۱۶؎یہودی بہت بڑا مال دار تھا ۱۷؎(بیہقی دلائل النبوۃ)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی حضرت علی نے اس یہودی کا نام بتایا تھا مگر راوی کو یاد نہ رہا تھا وہ اپنے مذہب کا بڑ ا عالم تھا۔حبر عالم یہود کو کہتے ہیں، جمع ہے احبار،محدثین نے بھی اس یہودی کا نام نہ بتایا۔
۲؎یعنی حضور انور نے اس یہودی پادری سے ضرورۃً چند اشرفیاں قرض لی تھیں۔اس سے معلوم ہوا کہ کفار سے مالی معاملات حتی کہ قرض کا لین دین بھی جائز ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ جس کا مال مخلوط ہو کہ اس کی کمائی حرام بھی ہو حلال بھی اس سے قرض ہدیہ لینا درست ہے،دیکھو یہود کے متعلق قرآن کریم فرماتاہے:"اَکّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ"یہ بڑے حرام خور ہیں،رشوتیں، سود جوئے بھی ان کی کمائیاں تھیں مگر حضور انور نے ان سے قرض لیا،اس سے بہت دینی مسئلے حاصل ہوں گے۔
۳؎اس یہودی کا یہ تقاضا مقررہ مدت سے پہلے تھا۔خیال رہے کہ قرض یعنی دست گرداں میں مدت مقرر لازم نہیں ہوتی،قرض خواہ طے شدہ وقت سے پہلے بھی تقاضا کرسکتا ہے مگر کاروباری قرض جسے دین کہتے ہیں جیسے کوئی چیز خریدی اس کی قیمت قرض کرلی اس میں طے شدہ مدت سے پہلے قرض خواہ کو تقاضا کرنے کا حق نہیں ہوتا۔
۴؎اس فرمان عالی میں حضور انور کی طرف سے وعدہ خلافی نہیں بلکہ وعدہ خلافی اس قرض خواہ یہودی کی طرف سے تھی کہ وہ طے شدہ مدت سے پہلے ہی قرضہ وصول کرنے آگیا تھا۔
۵؎فقہ میں اسے ملازمت کہتے ہیں یعنی قرض خواہ مقروض کے ساتھ رہے کہے کہ میں تجھے بغیر قرضہ وصول کیے چھوڑوں گا نہیں۔
۶؎غالبًا یہ واقعہ مسجد نبوی شریف میں ہوا کہ وہ یہودی مسجد میں ہی حضور انور کے ساتھ بیٹھ گیا حضورصلی اللہ علیہ وسلم مسجد شریف میں ہی باجماعت نماز پڑھتے رہے اور اس یہودی کے ساتھ بیٹھے رہے۔یہودی کافر تھا،کفار مسجد میں آسکتے ہیں،قرآن مجید میں جو ہے"اِنَّمَا الْمُشْرِکُوۡنَ نَجَسٌ فَلَایَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ"وہاں نجاست سے مراد عقیدوں کی گندگی اور وہاں مشرکین کو حج بیت اللہ سے روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔
۷؎تھدداورتوعددونوں کے معنی ہیں دھمکانا ڈرانا۔یہاںتھددسے مراد ہے مار پیٹ سے ڈرانا اورتوعدسے مراد ہے نکال دینے سے ڈرانا وہ حضرات چپکے چپکے اسے ڈراتے دھمکاتے تھے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۸؎یعنی قرائن و علامات سے حضور انور نے سمجھ لیا کہ ہمارے صحابہ اس یہودی کو ڈرا رہے ہیں۔فطنسے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور نے علامات سے معلوم کیا۔یہ ہے اسلام کا عدل و انصاف اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم بادشاہ ہیں، مسلمان حاکم قوم ہیں،وہ یہودی مسلمانوں کی رعیت کا ایک شخص ہے سلطان اسلام پر وہ ایسی سختی کررہا ہے اور اس کو اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دیا جاتا ایسا عدل و انصاف کسی قوم نے نہیں کیا ہوگا۔
۹؎صحابہ کی یہ عرض و معروض بطور تعجب ہے کہ ایک ذلیل حقیر یہودی جو آپ کی رعایا ہمارا ماتحت ہے اس نے پہلی زیادتی تو یہ کی کہ وقت سے پہلے قرضہ کا مطالبہ کیا،پھر اس کا یہ ظلم کہ آپ کے ساتھ رہ پڑا ہم کو اجازت دیں کہ ہم اسے ان حرکتوں کا مزہ چکھادیں۔ان حضرات کا مقصد یہ ہے کہ ہم اس کو ڈراتے دھمکاتے ہیں،اس کی زیادتی کی وجہ سے ہم کو اس کی اجازت دینی چاہیے۔خیال رہے کہ یا تو ان حضرات کے پاس روپیہ تھا نہیں کہ حضور انور کا قرض ادا کر دیتے یا حضور انور کو یہ منظور نہ تھا،یا ان حضرات کو اس یہودی کا وقت سے پہلے مطالبہ کرنا پسند نہ تھا،ان وجوہ سے ان حضرات نے حضور کا قرض ادا نہ کیا بلکہ اور طرح دھمکایا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ صحابہ نے قرض ہی ادا کیوں نہ کردیا۔(از مرقات)حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرات صحابہ کرام سے قرض نہیں لیتے تھے بلکہ غیرمسلموں سے یعنی اپنی رعایا یہود وغیرہ سے قرض لیتے تھے۔(مرقات)
۱۰؎معاہد سے مراد ذمی کافر ہے اور غیر معاہد سے مراد مستامن کافر ہے یا معاہد سے مراد ہے ذمی و مستامن دونوں قسم کے کفار اور غیر معاہد سے مراد ہیں حربی کفار کہ ظلم حربی کافر پر بھی جائز نہیں،یا معاہد سے مراد ہیں ذمی مستامن کفار اور غیر معاہد سے مراد ہیں سارے انسان۔خیال رہے کہ ذمی پرظلم کرنا بمقابلہ مسلمان پر ظلم کرنے کے زیادہ برا ہے کیونکہ مسلمان کے قرض کا نتیجہ قیامت میں یہ ہوگا کہ یا تو مقروض کی نیکیاں قرض خواہ کو دے دی جائیں یا قرض خواہ کے گناہ مقروض پر ڈال دیئے جائیں۔اگر کافر قرض خواہ یا مظلوم ہے اور مسلمان ظالم ہے تو یہ دونوں صورتیں وہاں ناممکن ہیں اسی لیے کافر پر ظلم بدتر ہے مسلمان پر ظلم کرنے سے جیسے جانوروں پر ظلم کرنا بدتر ہے انسان پر ظلم کرنے سے کہ جانور کسی سے شکایت نہیں کرسکتا دیکھو مرقات یہ ہی مقام،نیز جانور کے ظلم کا مسئلہ شامی میں بھی ہے۔خیال رہے کہ حضور انور نے یہاں قرض مارنے کا ظلم نہیں فرمایا ہے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نیت یہ تو تھی ہی نہیں بلکہ قرض خواہ کے پاس نہ بیٹھنے کو اسے ڈرانے دھمکانے کو ظلم قرار دیا ہے اس لیے فرمایا کہ مجھے اس کے پاس بیٹھناچاہیے۔ حربی کفار کا مال جنگ میں غنیمت میں لینا جائز ہے امانت،قرض،عاریت کافر کی بھی ادا کرنی پڑے گی۔
۱۱؎یعنی میں دیکھ کر اللہ کی توحید اور آپ کی نبوت کی گواہی دیتا ہوں اس کی تفصیل ابھی آگے آرہی ہے۔
۱۲؎یعنی میں مسلمان ہوتا ہوں اور اسلام کی توفیق ملنے کی خوشی میں اپنا آدھا مال اﷲکی راہ میں خیرات کرتا ہوں۔یہ اس کا شکریہ ہے کہ رب نے مجھے اسلام کے ساتھ صحابیت کا شرف بھی بخشا۔
۱۳؎یعنی میں نے آپ کی صورت آپ کا حلیہ توریت کے بیان کے مطابق پایا مگر وہ سیرت پاک اور دیکھنی تھی جو توریت شریف میں آپ کی بیان کی گئی ہے۔میری یہ سخت روی اس کی تحقیق کے لیے تھی ورنہ قصور تو میرا ہے کہ میں نے وقت سے پہلے قرض کا مطالبہ کیا۔
۱۴؎اس کی شرح ابھی کچھ پہلے گزر گئی کہ اسلام میں پہلے سلطان جناب امیرمعاویہ ہیں،ان کا دارالخلافہ دمشق تھا جو شام کا پایہ تخت ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضرت امیر معاویہ کی سلطنت بالکل حق ہے جیسے خلفاء راشدین کی خلافت بالکل درست و حق ہے،نیز یہ کہ امیر معاویہ کی سلطنت حضور انور کی سلطنت ہے۔سلطنت اور خلافت نیز سلطنت اور خلافت راشدہ میں بڑا فرق ہے۔سلطان اسلام مسلمانوں کے صرف اجسام کا حاکم ہوتا ہے اور خلیفۃ المسلمین مسلمانوں کے جسم و قلب و روح سب کا حاکم ہوتا ہے۔رسول اللہ کا جانشین اس کی بیعت سلطنت کی بیعت بھی ہے طریقت کی بیعت بھی کہ وہ مسلمانوں کا بادشاہ بھی ہوتا ہے اور پیر طریقت بھی اس لیے حضرات خلفاء راشدین کے زمانہ میں لوگ مشائخ کی بیعت نہ کرتے تھے،امیر معاویہ کے زمانہ سے یہ طریقت کی بیعت علیحدہ ہوئی لوگوں نے شیخ اختیار کیے۔
۱۵؎متزیبنا ہےزیسے بمعنی لباس وہیبت،متزیباب تفعل کا اسم فاعل برے برتاوے بری باتوں سے متلوث،فحشکے معنی ہیں حد سے بڑھی ہوئی چیز،خنابمعنی بیہودہ۔
۱۶؎یعنی میں نے یہ مال اللہ کی راہ میں خیرات تو کردیا مگر اسے تقسیم حضور انور کریں،حضور میرے اور میرے مال کے مالک و مختار ہیں جہاں چاہیں جسے چاہیں عطا فرمادیں۔
۱۷؎اب مال کے ساتھ اس کا حال،اس کا مآل(انجام)بھی اچھا ہوگیا یہ ہے خوش نصیبی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5832