Main Icon

باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5827

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ فِي كَلَامَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْتِيلٌ وَتَرْسِيلٌ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن جابر قال: كان في كلام رسول الله صلى الله عليه وسلم ترتيل وترسيل. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام شریف میں آہستگی اور ٹھہراؤ تھا ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎بعض شارحین نے فرمایا کہ ترتیل اور ترسیل کے معنی ہیں کلام میں آہستگی،رب فرماتاہے:"وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیۡلًا"بعض شارحین نے فرمایا کہترتیلکے معنی ہیں آہستگی سے کلام کرنا،ترسیلکے معنی ہیں واضح اور ظاہر کلام فرمانا کہ ایک ایک حرف ظاہر ہو زبان کسی حرف کے ادا کرنے میں لپٹے نہیں۔(مرقات)دوسرے معنی زیادہ موزوں ہیں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ حضور انور رب تعالٰی کی طرف سے مبلغ اعظم ہیں کلام میں جلدی یا کلام واضح نہ ہونا تبلیغ کے لیے مضر ہے اس لیے رب نے آپ کو فصاحت وبلاغت کے ساتھ خوش ادائیگی بھی عطا فرمائی تھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5827