Main Icon

باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5818

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لنَفسِهٖ شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهٖ وَلَا امْرَأَةً وَلَا خَادِمًا إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ فَيَنْتَقِمُ مِنْ صَاحِبِهٖ إِلَّا أَنْ يُنْتَهَكَ شَيْءٌ مِنْ مَحَارِمِ اللّٰهِ فَيَنْتَقِمُ لِلّٰهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنها قالت: ما ضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم لنفسه شيئا قط بيده ولا امرأة ولا خادما إلا أن يجاهد في سبيل الله وما نيل منه شيء قط فينتقم من صاحبه إلا أن ينتهك شيء من محارم الله فينتقم لله. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے کہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے کبھی کسی کو نہ مارا ۱؎نہ کسی بیوی کو نہ کسی خادم کو ۲؎مگر یہ کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ۳؎اور ایسا کبھی نہ ہوا کہ آپ سے کوئی چیز پائی جاوے ۴؎پھر آپ اس کرنے والے سے بدلہ لیتے مگر اس صورت میں کہ اللہ کی محرمات میں سے کوئی حرمت توڑ دی جاتی تو اللہ کے لیے اس کا بدلہ لیتے تھے ۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہاںشیئًاسے مراد آدمی ہے یعنی حضور نے کسی آدمی کو کبھی نہ مارا اونٹ گھوڑے کو بارہا مارا ہے،ایک بار بچھو بھی مارا ہے،سانپ کے مارنے کا حکم دیا ہے۔
۲
؎چونکہ انسان کو اپنی بیویوں خادموں سے تعلق بہت رہتا ہے اکثر انہیں مارنا پڑتا ہے اس لیے خصوصیت سے ان کا ذکر فرمایا ورنہشیئًامیں یہ بھی داخل تھے کہ یہ بھی آدمی ہی ہیں۔
۳
؎حضور انور نے غزوہ احد میں ابی ابن خلف کو اپنے ہاتھ شریف سے قتل کیا۔(مرقات)صرف یہ ہی ایک کافر حضور کے ہاتھوں سے قتل ہوا ہے۔یہاں شرعی سزائیں تعزیرات مراد نہیں وہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجرموں پر جاری فرمائی ہیں،یہ تمام قتل وغیرہ اپنی ذات کے لیے نہ تھے اللہ تعالٰی کی رضا کےلیے تھے۔
۴
؎یعنی اگر کوئی شخص قانون اسلامی کی مخالفت کرتا چوری زنا کرتا تو اس کو سزا ضرور دیتے تھے۔
۵
؎یعنی اگر کوئی شخص آپ کا کوئی حق مار لیتا تو آپ اسے معاف فرما دیتے تھے اس سے بدلہ نہ لیتے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5818