Main Icon

باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5815

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ كَانَ يُحَدِّثُ حَدِيثًا لَوْ عَدَّهُ العَادُّ لَأَحْصَاهُ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنها قالت: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن يسرد الحديث كسردكم كان يحدث حديثا لو عده العاد لأحصاه. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری جلدی کی طرح بات جلدی جلدی نہ کرتے تھے آپ باتیں یوں کرتے تھے کہ اگر کوئی گننے والا گننا چاہتا تو انہیں گن لیتا ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حضور انور کا کلام شریف نہ تو لگاتار ہوتا تھا نہ جلد جلد بلکہ ایک جملہ پر رک جاتے تھے تاکہ سننے والا غور کرکے سمجھ لے اور ہر جملے کے کلمات بھی بہت آہستگی سے ادا ہوتے تھے کہ ہر کلمہ دل میں بیٹھ جاتا تھا کیونکہ حضور انور کا ہر کلمہ تبلیغ کے لیے ہوتا تھا،اگر حضور جلد یا مسلسل یا بہت زیادہ کلام فرماتے تو لوگ بھول جاتے آپ کا کلام نہایت جامع مگر مختصر ہوتا تھا کہ حضرات صحابہ قرآن کی طرح اسے یاد کرلیتے تھے وہ ہی حدیث کی شکل میں جمع ہوگیا،اسی کلام مبارک سے آج دین قائم ہے،اسی کلام مبارک سے قرآن سمجھ میں آرہا ہے۔ایک صاحب نے حضور انور کے وعظ جمع کیے وہ ایسے ہیں کہ آج واعظ حضور کے بڑے وعظ کو دس منٹ میں کہہ سکتا ہے مگر ان وعظوں نے دنیا پلٹ دی ہوا کا رخ بدل دیااللھم صل وسلم وبارك علیہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5815