باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5804
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَجْوَدَ النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَانْطَلَقَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ فَاسْتَقْبَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَبَقَ النَّاسُ إِلَى الصَّوْتِ هُوَ يَقُولُ: «لَمْ تُرَاعُوا لَمْ تُرَاعُوا» وَهُوَ عَلٰى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ وَفِي عُنُقِهٖ سَيْفٌ. فَقَالَ: «لَقَدْ وَجَدْتُهٗ بَحْرًا».(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أحسن الناس وأجود الناس وأشجع الناس ولقد فزع أهل المدينة ذات ليلة فانطلق الناس قبل الصوت فاستقبلهم النبي صلى الله عليه وسلم قد سبق الناس إلى الصوت هو يقول: «لم تراعوا لم تراعوا» وهو على فرس لأبي طلحة عري ما عليه سرج وفي عنقه سيف. فقال: «لقد وجدته بحرا».(متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں بہت حسین اور سب سے زیادہ سخی سب سے زیادہ بہادر تھے ۱؎ایک رات مدینہ والے گھبرا گئے تو لوگ آواز کی طرف دوڑے ۲؎تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف سے روانہ ہوئے ۳؎آپ لوگوں سے پہلے آواز کی طرف دوڑے اور کہتے جاتے تھے مت گھبراؤ ۴؎اور آپ ابو طلحہ کے ننگے گھوڑے پر تھے جس پر زین نہ تھی ۵؎اور آپ کے گلے میں تلوارتھی پھر فرمایا کہ ہم نے اسے دریا پایا ۶؎(مسلم، بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎بدصورتی،بدخلقی،بخیلی،بزدلی انسانی عیب ہیں اللہ تعالٰی ان سے اپنے نبیوں کو محفوظ رکھتا ہے۔حضور انور چونکہ تمام نبیوں کے سردار سیّد ہیں اس لیے حضور ان عیوب سے بہت دور تھے۔حضور حسین تھے تو ایسے کہ اللہ کے محبوب ہوئے،سخی ایسے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت سے آج بھی بلکہ قیامت تک لوگ پرورش پاتے رہیں گے علماء، صوفیاء،نعت خواں،مشائخ اس باڑے سے پل رہے ہیں،ان کا جود و کرم و سخاوت کوئی مجھ جیسے کمینے سے پوچھے، حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی کرم نوازی مجھ پر اتنی کہ بیان نہیں کرسکتا۔شعر
ہم نے خطامیں نہ کی تم نے عطا میں نہ کی کوئی کمی سرورا تم پہ کروڑوں درود
مرزا قادیانی ایسا بزدل تھا کہ ڈر کے مارے حج کو نہ گیا،والی افغانستان کو اپنی نبوت کی دعوت دی انہوں نے جواب دیا ایں جا بیا یہاں آکر تبلیغ کرو مرزا نہ گیا،سچے نبی کبھی بزدل نہیں ہوتے۔اسی شجاعت کی بنا پر رب نے فرمایا:"فَقَاتِلۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۚ لَا تُکَلَّفُ اِلَّا نَفۡسَکَ"،"حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیۡنَ عَلَی الْقِتَالِ"۔اے محبوب تم اکیلے ہی کفار سے جہاد کرو آپ ہی کو جہاد کا حکم دیا جاتا ہے۔مؤمنوں کو بھی رغبت جہاد دو ا س لیے حضور اکثر خچر پر سوار ہوتے تھے کہ خچر جنگ پر پیچھے نہیں لوٹتا۔(مرقات)
۲؎یعنی مدینہ طیبہ کے کسی محلہ میں رات کو اچانک شور مچ گیا کہ دوڑو ہماری مدد کو دشمن یا چور ہم پر آن پڑے،کبھی ایسا ہوجاتا ہے سارے محلہ والے چیخ رہے تھے۔
۳؎اس جملہ کے دو معنی کیے گئے ہیں: ایک یہ کہھمکا مرجع وہ ہی چیخنے شور مچانے والے لوگ ہیں تو مطلب یہ ہے کہ دوسرے لوگ تو جماعت اور ٹولیاں بن کر شور کی طرف دوڑے کہ ایسے موقع پر امداد کرنے والے اکیلے نہیں جایا کرتے دشمن یا چوروں کا خطرہ ہوتا ہے مگر حضور ان سب لوگوں سے پہلے اکیلے ہی بیدھڑک روانہ ہوئے اور ان سب سے پہلے پہنچے یہ ہے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی بہادری و جرأت ۔دوسرے یہ کہھمکا مرجع یہ مدد کے لیے جانے والے لوگ ہیں اوراستقبلکے معنی ہیں حضور انور واپس آتے ہوئے ان جانے والوں کو ملے آپ وہاں ہوکر سب تحقیقات کرکے ان ڈرنے والوں کو تسلی وتشفی دے کر واپس آرہے تھے ہم جارہے تھے حضور آرہے تھے،یہ ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بہادری۔(مرقات)
۴؎اس عبارت کے معنی بھی دو ہیں: ایک یہ کہ آپ جاتے ہوئے ان ڈرنے والوں کو تسلی دیتے ہوئے آواز دیتے جارہے تھے کہ مت گھبراؤ میں آگیا ہوں مت ڈرو میں تمہاری مدد کو آگیا ہوں۔اس صورت میںلمبمعنیلاہے اور یہ عبارت نہی کا صیغہ ہے۔دوسرے یہ کہلم تراعوامیں خطاب ہے ان مددگاروں سے جو ادھر جارہے تھے اور مطلب یہ ہے کہ تم لوگ بھی ڈرو نہیں ہم وہاں ہو آئے ہیں وہاں کوئی خطرناک چیز نہیں ہے یوں ہی ان لوگوں کو دھوکا ہوگیا تھا۔لم تراعوابنا ہےروعسے بمعنی گھبراہٹ اور ڈر یا یہ مضارع مجہول صیغہ جمع مذکر حاضر ہے یعنی تم لوگ ڈرائے نہ گئے ہو بلکہ یوں ہی وہم میں مبتلا ہوگئے ہو بعض روایات میںلن تراعواہے۔
۵؎ابو طلحہ کے اس گھوڑے کا نام مندوب تھا بمعنی مطلوب آپ نے جلدی میں اس پر کاٹھی لگام وغیرہ کچھ نہ لگائی یوں ہی بغیر کاٹھی بغیر لگام سوار ہوکر روانہ ہوگئے۔(مرقات)
۶؎اہلِ عرب تیز رو اور سبک رفتار گھوڑے کو دریا سے تشبیہ دیتے ہیں وہ ہی محاورہ یہاں استعمال ہوا ہے یعنی جیسے دریا کا سوار نہایت آرام سے بغیر جھٹکے سفرکرتا ہے ایسے ہی اس گھوڑے کا حال ہے کہ مجھے نہایت تیز اور آرام سے لے گیا۔یہ گھوڑا بہت سی سست رفتار اور سخت اڑیل تھا جناب ابوطلحہ اس گھوڑے سے تنگ تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سواری کے بعد یہ دونوں عیب جاتے رہے،یہ حضور انور کا ایک معجزہ نہیں بلکہ چند معجزے ہوئے،گھوڑے کی پشت پر سوار ہوگئے تو حقیقت بدل دی جس انسان پر ہاتھ رکھ دیں نظر کرم کردیں اس کی بھی قسمت کھل جاوے۔شعر
السلام اے دو جہاں کے بادشاہ مجھ غریب و خستہ پربھی اک نگاہ (غلام امام شہید)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5804