Main Icon

باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5814

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ (رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا) قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا قَطُّ ضَاحِكًا حَتّٰى أَرٰى مِنْهُ لَهَوَاتِهٖ وَإِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن عائشة (رضي الله عنها) قالت: ما رأيت النبي صلى الله عليه وسلم مستجمعا قط ضاحكا حتى أرى منه لهواته وإنما كان يتبسم. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھاسے فرماتی ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی پورا کھل کر ہنستا نہ دیکھا حتی کہ میں آپ کے کوے دیکھ لیتی ۱؎آپ تبسم ہی فرمایا کرتے تھے ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎لہوات جمع ہے لہاۃ کی،عربی میں لہاۃ حلق کے کنارہ پر گوشت اور لٹکے ہوئے کوے کو کہتے ہیں۔جب انسان ٹھٹھہ مار کر ہنستا ہے تو پورا منہ کھل جاتا ہے اور وہ جگہ نظر آجاتی ہے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نہیں ہنستے تھے۔
۲
؎یہاں مرقات میں ہے کہ حضور انور سے بہت کم ہنسنا بھی ثابت ہے مگر قہقہہ لگانا ٹھٹھہ مارنا کبھی ثابت نہیں،تبسم فرمانے کی عادت بہت ہی تھی۔(مرقات،اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5814