Main Icon

باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2713

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من كُسِرَ أَوْ عُرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دواد وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَزَادَ أَبُوْ دَاوُدَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرٰى : «أَوْ مَرِضَ» .وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ. وَفِي "الْمَصَابِيحِ": ضَعِيفٌ.

وعن الحجاج بن عمرو الأنصاري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من كسر أو عرج فقد حل وعليه الحج من قابل» . رواه الترمذي وأبو دواد والنسائي وابن ماجه والدارمي وزاد أبو داود في رواية أخرى : «أو مرض» .وقال الترمذي: هذا حديث حسن. وفي "المصابيح": ضعيف.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حجاج ابن عمرو انصاری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جس کا پاؤں ٹوٹ جائے یا لنگڑا ہو جائے تو وہ احرام کھول دے اور اس پر سال آئندہ حج ہے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی) اور ابوداؤد نے یہ زیادہ کیا کہ دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ یا وہ بیمار ہوجائے ۲؎ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے اور مصابیح میں ہے کہ ضعیف ہے۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جس نے احرام حج باندھ لیا ہو پھر اس کے پاؤں کی ہڈی ٹوٹ جائے یا ہڈی تو نہ ٹوٹے لنگ پیدا ہوجائے جس سے وہ آگے سفر اور ارکان حج ادا نہ کرسکے تو وہ اپنا احرام کھول دے اور وہاں سے لوٹ جائے یا ٹھہر جائے،ہدی مکہ معظمہ بھیج دے اور تاریخ ذبح پر احرام کھول دے،سال آئندہ قضاءکرے۔اس سے دو مسئلے ثابت ہوئے:ایک یہ کہ احصار صرف دشمن ہی سے نہیں ہوتا بلکہ بیماری وغیرہ سے بھی ہوجاتا ہے۔دوسرے یہ کہ نفلی عبادت شروع کردینے سے فرض ہوجاتی ہے کہ اگر پوری نہ ہو سکے تو اس کی قضا لازم ہے کیونکہ یہاں حج مطلق فرماگیا ہے فرضی ہو یا نفلی لہذا یہ حدیث احناف کی قوی دلیل ہے ،بعض نے فرمایا کہ اگر شرط سے احرام باندھا ہے تب مرض سے احصار ہوسکے گا ورنہ نہیں مگر یہ بھی صحیح نہیں ،اس حدیث پاک میں شرط کا ذکر نہیں نص میں مطلق کا اطلاق باقی رکھنا چاہیے۔
۲
؎بیماری سے وہ بیماری مراد ہے جو سفر یا ادائے حج سے روک دے مطلقًا بیماری نہیں جیساکہ ظاہر ہے۔
۳
؎یعنی یہ حدیث چند اسنادوں سے مروی ہے: ترمذی والی اسناد میں تو حسن ہے اور امام بغوی یعنی صاحب مصابیح کی اسناد میں ضعیف مگر اس اسناد کا ضعف دوسری اسناد کے حسن کو مضر نہیں ہوسکتا۔فتح القدیر میں ہے کہ یہ حدیث حضرت ابن عباس و ابوہریرہ پر پیش کی گئی تو ان دونوں نے فرمایا کہ حجاج سچے ہیں،طحطاوی میں ہے کہ حضرت علقمہ فرماتے ہیں ہمارے اس ساتھی کو سانپ نے کاٹ لیا وہ عمرہ کا محرم تھا ہم نے حضرت عبداللّٰه ابن مسعود سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ یہ ہدی بھیج دے اور صحت ہو جانے کے بعد عمرہ ادا کرے فی الحال کھل جائے۔(مرقات وغیرہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2713