Main Icon

باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2709

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ وَأَمَرَ أَصْحَابَهٗ بِذٰلِكَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن المسور بن مخرمة قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم نحر قبل أن يحلق وأمر أصحابه بذلك. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مسور ابن مخرمہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے سر منڈانے سے پہلے ذبح فرمایا اور اپنے صحابہ کو بھی اس کا حکم دیا ہے ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ بھی حدیبیہ کا ہے کہ جب حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بعد صلح مدینہ منورہ واپسی کا ارادہ فرمالیا تو ہدی وہاں ہی قربانی فرمادی اور سر منڈادیا۔امام اعظم قدس سرہ کے ہاں محصر پر منڈوانا یا کتروانا نہیں،حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا عمل و حکم شریف اس لیے تھا کہ لوگوں پر آپ کا مصمم ارادہ ظاہر ہوجائے کہ اب عمرہ کرنے کا ارادہ بالکل ہی ترک فرمادیا ہے اور واپسی کا ارادہ ہوچکا ہے اور جو کام ضرورۃً حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کیے وہ سنت نہیں کہلاتے۔امام صاحب فرماتے ہیں کہ سر منڈانے یا کتروانے کا عبادت ہونا خاص جگہ اور خاص وقت میں ہے یعنی عمرہ یا حج کے ارکان ادا کرچکنے کے بعد،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللّٰہ اٰمِنِیۡنَ مُحَلِّقِیۡنَ رُءُوۡسَکُمْ وَ مُقَصِّرِیۡنَ"۔معلوم ہوا کہ بیت اللّٰه میں داخل ہوکر عمرہ کرنے،حلق و قصر عبادت ہے،صاحبین کے ہاں محصر پر سر منڈانا ہے مگر نہ کرنے پر کوئی کفارہ وغیرہ لازم نہیں،تفصیل کتب فقہ میں ہے۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2709