Main Icon

باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2710

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهٗ قَالَ: أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ إِنْ حُبِسَ أَحَدُكُمْ عَنِ الْحَجِّ طَافَ بِالبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتّٰى يَحُجَّ عَامًا قَابِلًا فَيُهْدِيَ أَوْ يَصُومَ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن ابن عمر أنه قال: أليس حسبكم سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ إن حبس أحدكم عن الحج طاف بالبيت وبالصفا والمروة ثم حل من كل شيء حتى يحج عاما قابلا فيهدي أو يصوم إن لم يجد هديا. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے آپ نے فرمایا کیا تمہیں رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی سنت کافی نہیں اگر تم میں سے کوئی حج سے روک دیا جائے ۱؎تو بیت اللّٰه اور صفا مروہ کا طواف کرے پھر ہر چیز سے حلال ہوجائے حتی کہ سال آئندہ حج کرے ۲؎تو ہدی لائے یا اگر ہدی میسر نہ ہو تو روزے رکھ لے ۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں سنت سے مراد قولی سنت ہے یعنی حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا فرمان عالی نہ کہ عملی سنت کیونکہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم احرام عمرہ میں روکے گئے تھے نہ کہ احرام حج میں۔حج روک دیئے جانے کے معنے یہاں یہ ہیں کہ محرم مکہ معظمہ حج ہوچکنے کے بعد پہنچے یا کوئی دشمن یا بیماری اسے مکہ معظمہ سے عرفات نہ جانے دے تو وہ محرم حج اب عمرہ کرکے احرام کھول دے اور اگر محرم مکہ معظمہ پہنچ ہی نہ سکا اس کے احکام دوسرے ہیں۔
۲
؎یعنی گزشتہ سال والے رہے ہوئے حج کی قضا کرے وہ حج خواہ فرض تھا یا نفلی یوں ہی اگر محرم حج کو فاسد کردے تب بھی قضا واجب ہے اگرچہ حج نفل ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ ہر نفلی عبادت شروع کردینے سے فرضی ہوجاتی ہے،امام شافعی حج میں تو اس کے قائل ہیں مگر دیگر عبادات میں قائل نہیں،ان کے ہاں نفلی نماز و روزہ شروع کردینے کے بعد بھی نفل ہی رہتے ہیں کہ توڑ دینے پر قضاء نہیں۔
۳
؎شاید کوئی ان احکام کا منکر تھا اس لیے حضرت ابن عمر نے یہ حکم بیان فرمایا مع دلیل کے۔خیال رہے کہ مفرد کا حج رہ جانے میں صرف حج کی قضا واجب ہوگی قضا کے وقت نہ عمرہ واجب ہوگا نہ ہدی،امام شافعی کے ہاں قربانی واجب ہوگی،اگر قارن کا حج رہ گیا تو وہ عمرہ تو ادا کرے پھر فوت شدہ حج کے لیے عمرہ کرے اس سے قران کی قربانی معاف ہو گئی،اگر متمتع کا حج رہ گیا تو تمتع جاتا رہا۔(مرقات و کتب فقہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2710