Main Icon

باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1217

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَن أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ ثُمَّ يَقُولُ: «سُبْحَانَكَ اَللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالٰى جَدُّكَ وَلَا إِلٰهَ غَيْرُكَ» ثُمَّ يَقُولُ: «اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا» ثُمَّ يَقُولُ: «أَعُوذُ بِاللهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهٖ وَنَفْخِهٖ وَنَفْثِهٖ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ بَعْدَ قَوْلِهٖ: «غَيْرُكَ» ثُمَّ يَقُولُ: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ » ثَلَاثًا وَفِي آخِرِ الحَدِيثِ: ثمَّ يَقْرَأُ

عن أبي سعيد قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام من الليل كبر ثم يقول: «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» ثم يقول: «الله أكبر كبيرا» ثم يقول: «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه» . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وزاد أبو داود بعد قوله: «غيرك» ثم يقول: «لا إله إلا الله » ثلاثا وفي آخر الحديث: ثم يقرأ

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب رات میں اٹھتے تو تکبیر کہتے،پھر کہتے الٰہی تو پاک ہے،تیری حمد ہے،تیرا نام برکت والا ہے،تیری شان اونچی ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۱؎پھر کہتے الله بہت ہی بڑا ہےپھر کہتے مردود شیطان سے سننے والے،جاننے والے الله کی پناہ مانگتا ہوں اس کے وسوسوں سے اس کی پھونک سے اس کے تکبر سے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)اور ابوداؤد نےغیركکے بعد یہ بھی زیادہ کیا کہ پھر تین بارلا اِلٰہ الّااللهکہتے اور آخر حدیث میں ہے پھر قرأت کرتے۔

شرح حدیث

۱∞؎یہاں تکبیر سے مراد تکبیر تحریمہ ہے یعنی آپ تہجد کی نماز شروع فرما کر قرأت سے پہلے یہ ذکر کرتے جیسے اور نمازوں میں کیا جاتا ہے مگر اس نماز میں آیندہ کلمات اور زیادہ فرماتے۔خیال رہے کہ جد کے معنی عظمت ہیں یا جائے پناہ اسی لیئے مال کو بھی جد کہتے ہیں کہ اس کے ذریعہ لوگوں کو عظمت ملتی ہے اور دادا کو بھی اس سے خاندانی عظمتیں قائم ہوتی ہیں۔
۲
؎اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان بہکاتے وقت انسان پر پھونکیں مارتا ہے جس سے وسوسے اور ناجائز تکبر پیدا ہوتے ہیں کیونکہ لوہے کو لوہا کاٹتا ہے اور پھونک کو پھونک مٹاتی ہے اس لیئے مشائخ بھی شیطان وغیرہ کو دفع کرنے کے لیئے دم ہی کرتے ہیں۔پھونک کی تاثیریں اور فوائد ہماری کتاب "اسرار الاحکام"میں دیکھو

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1217