Main Icon

باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1216

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ شَرِيقٍ الْهَوْزَنِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلیٰ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا: بِمَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ إِذَا هَبَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَتْ: سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ كَانَ إِذَا هَبَّ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ عَشْرًا وَحَمِدَ اللهَ عَشْرًا وَقَالَ: «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهٖ عَشْرًا» وَقَالَ: «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» عَشْرًا وَاسْتَغْفَرَ عَشْرًا وَهَلَّلَ عَشْرًا ثُمَّ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ ضِيقِ الدُّنْيَا وَضِيقِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ»عَشْرًا ثمَّ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ.رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن شريق الهوزني قال: دخلت علی عائشة فسألتها: بم كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يفتتح إذا هب من الليل فقالت: سألتني عن شيء ما سألني عنه أحد قبلك كان إذا هب من الليل كبر عشرا وحمد الله عشرا وقال: «سبحان الله وبحمده عشرا» وقال: «سبحان الملك القدوس» عشرا واستغفر عشرا وهلل عشرا ثم قال: «اللهم إني أعوذ بك من ضيق الدنيا وضيق يوم القيامة»عشرا ثم يفتتح الصلاة.رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت شریق ہوزنی ۱؎سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ کے پاس گیا میں نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب رات میں جاگتے تھے تو ابتداء کس چیز سے کرتے تھے فرمایا کہ تم نے مجھ سے وہ چیز پوچھی جو تم سے پہلے مجھ سے کسی نے نہ پوچھی ۲؎جب حضور رات میں جاگتے تو دس بار تکبیر دس بار حمد کہتے اور دس بار "سُبْحٰنَ الله وَبِحَمْدِہٖ" دس بار "سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ" کہتے دس بار استغفار پڑھتے اور دس بار کلمہ پھر دس بار کہتے الٰہی میں دنیا اور قیامت کی تنگی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۳؎پھر نماز شروع کرتے۔(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ بڑے پائے کے تابعی ہیں،ہوزن جو قبیلہ ذی کلاع کا بطن ہے اس کی طرف منسوب ہیں۔
۲
؎اس میں سوال کی تعریف ہے کہ رب تعالٰی نے تمہیں اچھی بات پوچھنے کی توفیق دی اس سوال سے صحابہ کرام کا عشق رسول ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حضرات حضور صلی الله علیہ وسلم کی ساری اندرونی و بیرونی زندگی معلوم کرکے اس کی نقل کرنا چاہتے تھے۔
۳
؎دنیا کی تنگی میں یہاں کی آفتیں بیماری اور قرض کی مصیبتیں وغیرہ سب داخل ہیں اور قیامت کی تنگی میں وہاں کی دھوپ اور گرمی حساب میں ناکامی وغیرہ شامل ہے یہ کل سترکلمات ہوئے قربان جاؤں اس سونے اور جاگنے پر۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1216