Main Icon

باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1212

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهٗ فَقَالَ: «اَللّٰهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلٰى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عائشة قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا قام من الليل افتتح صلاته فقال: «اللهم رب جبريل وميكائيل وإسرافيل فاطر السماوات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك إنك تهدي من تشاء إلى صراط مستقيم» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب رات میں اٹھتے نماز شروع کرتے تو کہتے اے الله اے جبرئیل اے میکائیل اور اسرافیل کے رب ۱؎آسمانوں اور زمین کے بنانے والے چھپے کھلے کے جاننے والے ۲؎تو ہی اپنے بندوں کا ان چیزوں میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ جھگڑتے ہیں ۳؎مجھے اپنے کرم سے اس حق کی ہدایت دے جس میں اختلاف ہے تو جسے چاہے سیدھے رستے کی ہدایت دے ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ یہ کلمات نماز تہجد کی تکبیر تحریمہ سے پہلے فرماتے تھے الله تعالٰی ساری مخلوق کا رب ہے مگر خصوصیت سے ان تینوں فرشتوں کا ذکر ان کے اشرف ہونے کی بنا پر کیا گیا۔اکثر علماء کا قول یہ ہے کہ تمام فرشتوں میں افضل حضرت جبریل ہیں کیونکہ خادم انبیاء ہیں اور حامل وحی ہیں،پھر میکائیل کیونکہ رزق جسمانی کا تعلق ان سے ہے،پھر اسرافیل کیونکہ آپ لوح محفوظ کے امین اور صور کے محافظ،پھر عزرائیل علیہم الصلوۃ والسلام اس ترتیب میں اور بھی قول ہیں۔
۲
؎خالق بمعنی پیدا کرنے والا،فاطر بمعنی ایجاد کرنے والا،چونکہ آسمان فیض دینے والے ہیں اور زمین فیض لینے والی،نیز آسمان کفر و شرک و گناہ سے محفوظ ہے اور زمین میں یہ سب کچھ موجود اس لیئے آسمانوں کا ذکر پہلے کیا زمین کا بعد،ورنہ زمین آسمان سے افضل بھی ہے اور پہلے بھی۔غیب اور غائب کا فرق پہلے بیان کیا جاچکا ہے،رب تعالٰی کے لیئے کوئی شے غیب نہیں ہمارے لیئے بعض چیزیں غیب ہیں اور بعض شہادت۔
۳
؎قیامت کے دن عملی فیصلہ اس طرح کہ اچھوں و بروں میں فاصلہ فرمادے گا،قولی فیصلہ تو یہ بھی ہوچکا لہذا اس حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔
۴
؎یہ دعا ہماری تعلیم کے لیئے ہے ورنہ الله تعالٰی حضور صلی الله علیہ وسلم کو ہر طرح کی ہدایت ازل میں ہی دے چکا اب تمام عالم کو حضور صلی الله علیہ وسلم سے ہدایت بٹ رہی ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ اِنَّكَ لَتَہْدِیْۤ اِلٰی صِراطٍ مُّسْتَقِیْمٍ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1212