Main Icon

باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1215

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَبِيتُ عَلیٰ ذِكْرٍ طَاهِرًا فَيَتَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ فَيسْأَلُ اللّٰهَ خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ اللّٰهُ إِيَّاهُ» . رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ

وعن معاذ بن جبل قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ما من مسلم يبيت علی ذكر طاهرا فيتعار من الليل فيسأل الله خيرا إلا أعطاه الله إياه» . رواه أحمد وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کوئی مسلمان نہیں جو رات گزارے ذکر الٰہی پر پاک رہ کر ۱؎پھر رات کو اٹھے الله سے خیر مانگے مگر الله اسے وہ دے دیتا ہے ۲؎(احمد و ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی باوضو سوئے اور الله کا ذکر آیتہ الکرسی وغیرہ پڑھ کر سوئے،بعض صوفیاء سوتے وقت پاس انفاس کرتے ہیں اور اسی حالت میں سوجاتے ہیں اس طرح کہلَا اِلٰہپر سانس کھینچتے ہیں اوراِلَّااللهُپر نکالتے ہیں یاصَلَّی الله عَلَیْكَسے سانس کھینچتے ہیں اوریَارَسُولَ اللهپر سانس باہر نکالتے ہیں ان کا ماخذ یہ حدیث ہے اگر آخر ی نیند یعنی موت پر یہ عمل نصیب ہوجائے تو زہے نصیب۔مرقات نے فرمایا کہ اس وقت تیمم ہی کرکے سوجائے یا طہارت سے مراد دل کا حسد اور کینہ وغیرہ سے پاک ہونا ہے۔
۲
؎اور ایسا شخص تمام رات کا عابد مانا جاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1215