Main Icon

باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3156

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلأَوَّلِ مِنْهُمَا، وَمَنْ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْن فَهُوَ للأَوَّلِ مِنْهُمَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ والدارمِيُّ.

وعن سمرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "أيما امرأة زوجها وليان فهي للأول منهما، ومن باع بيعا من رجلين فهو للأول منهما". رواه الترمذي وأبو داود والنسائي والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سمرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس عورت کا نکاح دو ولی کردیں تو وہ ان دونوں میں سے پہلے کے لیے ہوگی۱؎اور دو شخصوں کے ہاتھ چیز فروخت کردے تو وہ ان دونوں میں پہلے کی ہے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد، نسائی، دارمی)۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جس عورت بالغہ یا نابالغہ کا نکاح ایک درجہ والے دو ولی جیسے دو بھائی یا دو چچا بے خبری میں یا با خبر ہوتے ہوئے دو شخصوں سے کردیں تو ان میں سے پہلا نکاح درست ہے دوسرا باطل اگرچہ دوسرے خاوند نے صحبت بھی کرلی ہو اس پر فتویٰ ہے۔عطا فرماتے ہیں اگر دوسرے نے صحبت کرلی ہو تو یہ ہی نکاح درست ہے پہلا باطل امام شافعی کے ہاں دونوں نکاح باطل ہیں کہ منعقد ہوتے ہی نہیں پھر صحبت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔(مرقات) یہ اختلاف اس صورت میں ہے کہ دونوں نکاح آگے پیچھے ہوئے ہوں لیکن اگر اتفاقًا بیک وقت ہوگئے تو ہمارے ہاں بھی دونوں باطل ہیں اس مسئلہ کی بہت شقیں ہیں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں اگر بالغہ کا نکاح اس کی بغیر اجازت دو ولیوں نے کیا تو جسے بالغہ درست رکھے وہی درست ہے اگر دونوں کو درست رکھے تو جس کی اجازت پہلے دی وہ درست ہے اور اگر ایک ساتھ دونوں کی اجازت دی تو دونوں باطل ہیں۔
۲
؎اس کی بھی دو صورتیں ہیں اگر کسی نےایک چیز آگے پیچھے دوکے ہاتھ فروخت کی تو پہلی بیع درست ہے،دوسری باطل اور اگرایک ساتھ دو کے ہاتھ بیچی اور دونوں گاہکوں نے بیک وقت قبول کی تو دونوں بیع درست ہیں اور وہ چیز دونوں کی مشترک ہوگی۔
۳
؎یہ حدیث احمد،ابن ماجہ اور حاکم نے بھی روایت کی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3156