Main Icon

باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3159

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ فِي عُرْسٍ، وَإِذَا جَوَارٍ يُغَنِّينَ فَقُلْتُ: أَيْ صَاحِبَيْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلَ بَدْرٍ يُفْعَلُ هَذَا عِنْدَكُمْ؟ فَقَالَا: اجْلِسْ إِنْ شِئْتَ فَاسْمَعْ مَعَنَا، وَإِنْ شِئْتَ فَاذْهَبْ، فَإِنَّهُ قَدْ رُخِّصَ لَنَا فِي اللَّهْوِ عِنْدَ الْعُرْسِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

وعن عامر بن سعد قال: دخلت على قرظة بن كعب وأبي مسعود الأنصاري في عرس، وإذا جوار يغنين فقلت: أي صاحبي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأهل بدر يفعل هذا عندكم؟ فقالا: اجلس إن شئت فاسمع معنا، وإن شئت فاذهب، فإنه قد رخص لنا في اللهو عند العرس. رواه النسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عامر ابن سعد سے فرماتے ہیں میں قرظہ ابن کعب اور ابو مسعود انصاری کے پاس ایک شادی میں گیا ۱؎تو ناگاہ کچھ بچیاں گا رہی تھیں میں نے کہا اے رسول اصلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیو اور اے بدر والو! تمہارے پاس یہ کام کیا جارہا ہے ۲؎تو وہ دونوں صاحب بولے اگر تم چاہو بیٹھو اور ہمارے ساتھ سنو اور اگر چاہو چلے جاؤ ہم کو شادی کے موقع پر لہو و لعب کی اجازت دی گئی ہے ۳؎(نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎عامر ابن سعد ابن ابی وقاص مشہور تابعی ہیں اور قرظہ ابن کعب(ق،ر،ظ)سے اور ابو مسعود دونوں صحابی ہیں بدری ہیں۔
۲
؎یعنی اسلام میں گانا مطلقًا حرام ہے اور تمہارے سامنے بچیاں گارہی ہیں تم دونوں جلیل الشان صحابی منع نہیں کرتے لوگ تمہارے منع نہ کرنے کی وجہ سے اسے جائز سمجھیں گے یہاں جمع دو کے لیے بولی گئی۔
۳
؎یعنی شادی بیاہ میں ننھی بچیوں کا جائز گیت گانے کی اجازت ہے جائز کام کو ہم کیوں روکیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3159