Main Icon

باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3142

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ، وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ، فَأَيُّ نِسَاءِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي؟ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعنها قالت: تزوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم في شوال، وبنى بي في شوال، فأي نساء رسول الله صلى الله عليه وسلم كان أحظى عنده مني؟ . رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح بھی شوال میں کیااور زفاف بھی ۱؎تو رسولصلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیوی مجھ سے زیادہ محبوبہ تھی ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اہل عرب شوال کے مہینہ میں نکاح یا رخصتی منحوس جانتے تھے اور کہتے تھے کہ اس مہینہ کا نکاح کامیاب نہیں ہوتا میاں بیوی کے دل نہیں ملتے۔کہتے تھے کہشوالبنا ہےشولسے جس کے معنی ہیں مٹانا دور کرنا، زمین پر کھینچنا آپ ان کے اس خیال کی تردید فرمارہی ہیں،بعض روافض بھی دو عیدوں کے درمیان اور محرم میں نکاح کو منحوس مانتے ہیں یہ سب وہم باطل ہے۔(مرقات)
۲
؎مقصد یہ ہے کہ میرا تو نکاح بھی ماہ شوال میں ہوا اور رخصتی بھی اور میں تمام ازواج مطہرات میں حضور کو زیادہ محبوبہ تھی اگر یہ نکاح اور رخصت مبارک نہ ہوتی تو میں اتنی مقبول کیوں ہوتی۔علماء فرماتے ہیں کہ ماہ شوال میں نکاح مستحب ہے۔خیال رہے کہ جناب ام المؤمنین عائشہ صدیقہ بعد خدیجتہ الکبریٰ حضور کو بہت ہی محبوبہ تھیں،آپ کا لقب ہے محبوبہ محبوب رب العلمین،آپ کے ہی سینہ و گود میں حضور کی وفات ہوئی،آپ ہی کے حجرہ میں حضور کا دفن ہوا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3142