Main Icon

باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3149

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ، وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ قَالَ: التَّشَهُّدُ فِي الصَّلَاةِ: "التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" وَالتَّشَهُّدُ فِي الْحَاجَةِ: "أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ ونَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" وَيَقْرأُ، ثَلَاثَ آيَاتٍ: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ، وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا . يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ، وَفِي "جَامِعِ التِّرمِذِيِّ" فَسَّرَ الآيَاتِ الثَّلَاثَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَزَادَ ابْنُ مَاجَهْ بَعْدَ قَوْلِهِ: "أنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ": "نَحْمَدُهُ"، وَبَعْدَ قَوْلِهِ:"مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا": "وَمِنْ سَيِّئاتِ أَعْمَالِنَا"، وَالدَّارِمِيُّ بَعْدَ قَوْلِهِ: "عَظِيمًا": ثُمَّ يَتَكَلَّمُ بِحَاجَتِهِ، وَرَوَى فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ" عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي خُطْبَةِ الْحَاجَةِ مِنَ النِّكَاحِ وَغَيْرِهِ.

عن عبد الله بن مسعود قال: علمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم التشهد في الصلاة، والتشهد في الحاجة قال: التشهد في الصلاة: "التحيات لله والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله" والتشهد في الحاجة: "أن الحمد لله ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله" ويقرأ، ثلاث آيات: ياأيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون، واتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام إن الله كان عليكم رقيبا . ياأيها الذين آمنوا اتقوا الله وقولوا قولا سديدا يصلح لكم أعمالكم ويغفر لكم ذنوبكم ومن يطع الله ورسوله فقد فاز فوزا عظيما
رواه أحمد والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي، وفي "جامع الترمذي" فسر الآيات الثلاث سفيان الثوري، وزاد ابن ماجه بعد قوله: "أن الحمد لله": "نحمده"، وبعد قوله:"من شرور أنفسنا": "ومن سيئات أعمالنا"، والدارمي بعد قوله: "عظيما": ثم يتكلم بحاجته، وروى في "شرح السنة" عن ابن مسعود في خطبة الحاجة من النكاح وغيره.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں اور حاجات میں تشہد سکھایا ۱؎فرمایا نماز میں تشہد یہ ہے کہ تمام تحیتیں اور نمازیں، خوبیاں اللہ کو ہیں سلام ہو آپ پر اے نبی ۲؎اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر ۳؎میں گواہی دیتا ہوں یہ کہ نہیں ہے کوئی معبود سوا اللہ کے اور گواہی دیتاہوں کہ بے شک محمد اللہ کے بندے اوراس کے رسول ہیں۔اور خطبہ حاجت میں یہ ہے کہ تمام حمد اللہ کو ہے ۴؎ہم اس سے مدد مانگتے ہیں ۵؎اور اس سے معافی مانگتے ہیں ۶؎ا ور اپنے نفسوں کی شرارتوں سے اللہ کی پناہ لیتے ہیں ۷؎جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے ہدایت دینے والا کوئی نہیں ۸؎اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ۹؎اور تین آیتیں پڑھے ۱۰؎اے ایمان والوں اللہ سے ڈرو اس سے ڈرنے کا حق۱۱؎اور ہر گز نہ مرو مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو ۱۲؎اے ایمان والو ۱۳؎اس سے ڈور جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو ۱۴؎اور رحمی رشتوں سے ڈرو۱۵؎بے شک اللہ تم پر حافظ ہے اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور درست بات کہو ۱۶؎رب تمہارے کام درست کردے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ رسول کی اطاعت کرے وہ بڑا ہی کامیاب ہے ۱۷؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی، ابن ماجہ، دارمی) اور جامع ترمذی میں ہے تینوں آیتوں کی تفسیر ۱۸؎سفیان ثوری نے فرمائی اور ابن ماجہ نےالحمدللّٰہکے بعدنحمدہپڑھا۔اورمن شرور انفسناکے بعدومن سیئات اعمالنازیادہ کیا اور دارمی نے عظیما کے بعد فرمایا ۱۹؎کہ پھر اپنے کام کی بات کرے اور شرح سنہ میں حضرت ابن مسعود سےخطبۃ الحاجۃمیں فرمایا نکاح وغیرہ ۲۰؎

شرح حدیث

۱∞؎حاجت سے مراد نکاح وعظ وغیرہ ہے کہ ہر شاندار کام کرتے وقت اللہ رسول کا ذکر بہت بہتر ہے۔
۲
؎اس کی شرح کتاب الصلوۃ میں گزر گئی کہ نمازی اپنے دل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جلوہ گر جانے اور پھر اپنے کو حضور کے سامنے حاضر جان کر بہ نیت سلام یہ کلمات ادا کرے سمجھے کہ حضور میرا سلام سن رہے ہیں اور مجھے جواب دے رہے ہیں۔
۳
؎علیناسے مراد تو ہم جیسے سارے گنہگار بندے ہیں اور نیک بندوں سے مراد حضرات انبیاء و اولیاء ہیں لہذا اس پر کوئی اعتراض نہیں اسکی مکمل شرح کتاب الصلوۃ میں التحیات کے موقع پر گزر گئی۔
۴
؎حاجت سے مراد نکاح وعظ وغیرہ تمام ضروری چیزیں ہیں کہ ہر جگہ اولًا یہ خطبہ پڑھے پھر کام یا کلام کرےاَننون کے شد سے بھی ہوسکتا ہے تب توالحمدپر فتح ہوگا اور نون کے سکون سے بھی تب حمد پر پیش ہوگا رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاٰخِرُ دَعْوَاىہُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ"۔
۵
؎حمد الٰہی کرنے پر بھی اس کی مدد مانگتے ہیں،دوسری عبادات پر بھی اور تمام کاموں میں بھی اور اس کی مدد شامل حال نہ ہو تو ہم کچھ نہیں کرسکتے۔
۶
؎ہم گنہگار گناہ کرکے معافی مانگتے ہیں،ابرار گناہ نہ کر کے بھی معافی کے طالب ہیں اور اخیار نیکیاں کرکے بھی معافی چاہتے ہیں کہ اس رب کی شان کے لائق ہم سے نیکی نہ ہوسکی۔
۷
؎کیونکہ ہمارا سب سے بڑا دشمن ہمارا نفس ہے جو دوستی کے رنگ میں دھوکہ دیتا ہے اور ہر دم ہمارے ساتھ رہتا ہے اللہ کے کرم کے بغیر اس کی شرارتوں سے ہم نہیں بچ سکتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا ہم کو تعلیم کے لیے ہے ورنہ حضرات انبیائے کرام کے نفس امارہ ہوتے ہی نہیںمطمئنہہوتے ہیں ان کے نفوس میں خیر ہی خیر ہے۔
۸
؎یعنی جسے اللہ ہدایت پر ثابت قدم رکھے اسے نفس شیطان، دنیا کی کوئی چیزبہکا نہیں سکتی اور جس میں رب تعالٰی گمراہی کا خلق فرمادے اسے کہیں سے ہدایت نہیں مل سکتی،ابوجہل مکہ میں رہ کر حضور انور کو دیکھ کر بھی ہدایت نہ پاسکا،چمگادڑ کی آنکھ سورج سے نور نہیں لیتی۔خیال رہے کہ شر کی نسبت نفس کی طرف کسبی ہے اور گمراہ کرنے کی نسبت رب تعالٰی کی طرف خلقی ہے، ہم کاسبِ شر ہیں، رب تعالٰی خالق خیر و شر ہے۔
۹
؎حضور سیدالمخلوقات ہیں اور سند الموجودات تمام خلق کے رسول ہیں ایسی رسالت عامہ حضور کے سوا کسی کو نہ عطا ہوئی۔
۱۰
؎یقراکا فاعل یا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یعنی حضور نے ہماری تعلیم کے لیے تین آیات پڑھیں یا اس کا فاعل ہر خطیب ہے یعنی خطبہ پڑھنے والا اس حمد و ثناء و نعت کے بعد تین آیات پڑھے۔(مرقات)
۱۱
؎اللہ سے ڈرنے کا حق یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے اسے یاد رکھا جائے کبھی بھولا نہ جائے اس آیت کے نزول پر صحابہ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا خوف خدا جو اس کے حق کے لائق ہو کون کرسکتا ہے تب یہ آیت کریمہ اتری:"فَاتَّقُوا اللہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ"جس قدر طاقت رکھو اللہ سے ڈرو لہذا یہ دوسری آیت پہلی آیت کی مفسرہ ہے ناسخہ نہیں۔(معالم التنزیل و مرقات)یعنی جس قدر ہوسکے اور جتنا بن پڑے اتنا رب سے ڈرے۔
۱۲
؎یعنی ہمیشہ ایمان پر قائم رہو کہ جب بھی تم کو موت آئے ایمان پر آئےتعالٰی نصیب فرمائے اسلام میں ایمان و اعمال سب داخل ہیں۔
۱۳
؎شاید یہ قرأۃ حضرت عبداللہ ابن مسعود کی ہے ہماری قرأۃیٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمُالایہ یہ ہی درست ہے۔
۱۴
؎یعنی جب کسی سے مانگتے ہو تو اللہ کے نام پر مانگتے ہو کہ خدا کے لیے ہم کو یہ دو جس کے نام سے تم کو بھیگ ملتی ہے اس کو راضی بھی کرو کہ اس سے ڈرو۔
۱۵
؎اَرحامہماری قرأۃمیں منصوب ہے لفظ اللہ پر معطوف یعنی رحم قطع کرنےسےڈرو اور ہوسکتا ہے کہ ارحام مجرور ہوبہکی ضمیر پر یعنی لوگوں سے رشتہ کے واسطے سے مانگتے ہو،لہذا رحمی رشتہ کا بھی لحاظ رکھو۔
۱۶
؎درست بات سے مراديا کلمہ طیبہ ہے یا ہر سچی بات يا عدل و انصاف کی بات یعنی ہمیشہ کلمہ طیبہ پڑھا کرو، سچ بولا کرو انصاف کی بات کیا کرو۔
۱۷
؎یعنی انسان کی کامیابی مال دولت عزت و حکومت سے نہیں اللہ رسول کی اطاعت سے ہے کہ مال و دولت فانی ہیں اور اس اطاعت کا ثواب باقی اورلازوال ہے۔
۱۸
؎یعنی سفیان ثوری نے یہ حدیث و خطبہ بھی نقل فرمایا ان مذکور آیتوں کی تفسیر بھی کی۔
۱۹
؎دارمی کا عطف ابن ماجہ پر ہے یعنی ابن ماجہ نے توان الحمدللّٰہکے بعدنحمدہزیادہ کیا،اورمن شرور انفسنا،کے بعدومن سیات اعمالنابڑھایا اور دارمی نےعظیماکے بعد یہ الفاظ زیادہ کیے کہ پھر وہ بات کرے جس کے لیے خطبہ پڑھا۔
۲۰
؎یعنی دوسری روایات میں توخطبہ حاجت میں صرف نکاح کا لفظ ہے مگر شرح سنہ میں نکاح وغیرہ فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ یہ خطبہ صرف نکاح کے لیے ہی نہیں ہے وعظ وغیرہ دوسری دینی کلاموں کے لیے بھی ہے،حصن حصین میں اس خطبہ میں اور بھی الفاظ شامل ہیں چنانچہ وہاںو رسولہکے بعد ہے۔ارسلہ بالحق بشیراو نذیرا بین یدی الساعۃ من یطع اﷲ ورسولہ فقد رشد ومن یعصیھما فلا یضر الانفسہ ولا یضر اﷲ شیئابہرحال خطبہ میں زیادتی و کمی ہوسکتی ہے بہتر یہ ہے کہ منقولہ الفاظ ضرور پڑھے۔(از مرقات وغیرہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3149