Main Icon

باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3145

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا وَلِتَنْكِحَ، فَإِنَّ لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لا تسأل المرأة طلاق أختها لتستفرغ صحفتها ولتنكح، فإن لها ما قدر لها". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے۱؎تاکہ اس کا پیالہ فارغ کردے ۲؎اور تاکہ خود نکاح کر لے ۳؎کیونکہ اس کے لیے وہ ہی ہے جو اس کے مقدر میں ہے ۴؎(مسلم بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر کوئی بیوی والا شخص کسی عورت کو پیغام نکاح دے تو یہ عورت یہ مطالبہ نہ کرے کہ تم اپنی پہلی بیوی کو طلاق دو تب نکاح کروں گی لہذا بہن سے مراد سوکن بننے والی عورت ہے کیونکہ اسلامی بہن ہے اس میں اخلاق کی تعلیم ہے۔
۲
؎یعنی اس سوکن کا حصہ خود قبضہ کرے اس کا کھانا پینا عیش و آرام پر خود قبضہ کرے۔
۳
؎لِتَنْکِحَکا لام امر نہیں بلکہ لام کے معنی میں ہے اور یہ جملہلِتَسْتَفْرِغَپر معطوف ہے لہذا حدیث کا مطلب واضح ہے،عورت کو سوکن پر نکاح کرلینے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ پہلی کی طلاق کے مطالبہ سے روکا گیا اسلِتَنْکِحَکا فاعل یا تو خود یہ عورت ہے یا اس کی سوکن یعنی تاکہ وہ شخص پہلی بیوی کو طلاق دے دے اور وہ کسی اور جگہ نکاح کرلے اور ہوسکتا ہے کہلِتَنْکِحَکا لام لام امر ہو اور معنی یہ ہوں کہ اس عورت کو چاہیے کہ اس مرد کی پہلی بیوی کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے بلکہ کسی اور سے نکاح کرے (مرقاۃ) ۔
۴
؎لہذا پہلی کو طلاق دلوانے سے اس کا اپنا نصیب بدل نہ جائے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3145