Main Icon

باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3141

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: زُفَّتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ نَبِيُّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَا كَانَ مَعَكُمْ لَهْوٌ؟ فَإِنَّ الأَنْصَارَ يُعْجبُهُمُ اللَّهْوُ". رَوَاهُ البُخَارِيّ.

وعن عائشة قالت: زفت امرأة إلى رجل من الأنصار فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم : "ما كان معكم لهو؟ فإن الأنصار يعجبهم اللهو". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ایک عورت اپنے انصاری خاوند کے ہاں بھیجی گئی۱؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے ساتھ کوئی کھیل نہ تھا کیونکہ انصار کو کھیل پسند ہے ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی انصاری بی بی اپنے شوہر کے گھر رخصت ہو کر گئیں ان بزرگوں کے نام معلوم نہ ہوسکے۔۲؎یہاں کھیل سے مراد بچیوں کے گیت ہیں یا بالغہ عورتوں کے پست آواز سے جائز اشعار پڑھنے کی آواز گھر سے باہر نہ آئے اور غیر لوگ نہ سنیں،انہیں کھیل اس لیے کہا گیا کہ باعث سرور ہیں جیسے تیر اندازی گھوڑے بازی اپنی بیوی سے خوش طبعی کو لہو فرمایا گیا۔حرام کھیل تماشے گانے باجے مراد نہیں لہذا چکڑالوی اس پر اعتراض نہیں کرسکتے۔معلوم ہوتا ہے کہ ایسے موقعہ پر گیت انصار کو پہلے سے ہی پسند تھے اس پسندیدگی پر اعتراض نہ کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ یہ پسندیدگی بری نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3141