Main Icon

باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3147

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَكل لُحُوم الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن متعة النساء يوم خيبر وعن أكل لحوم الحمر الإنسية. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے متعہ سے منع فرمایا ۱؎اور پالتو گدھوں کے گوشت سے ۲؎(مسلم بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎متعہ کے لغوی معنی ہیں نفع اسی سے ہے تمتع کرنایہ اسلام میں دو بار حلال ہوا، دوبار حرام۔چنانچہ فتح خیبر سے کچھ پہلے یہ حلال رہا اور خیبر کے دن حرام کردیا گیا پھر فتح مکہ کے سال جنگ اوطاس سے کچھ پہلے تین دن کے لیے حلال کیا گیا،پھر ہمیشہ کے لیے حرام کر دیا گیا،لہذا یہ حدیث آئندہ حدیث کے خلاف نہیں۔(از مرقات،نووی و اشعہ وغیرہ)
۲
؎انسیہیا تو الف کے پیش سے ہے یعنی ا نس و محبت رکھنے والا گدھا یا الف کے کسرہ سے یعنی جسے انسان پالتے ہیں یہ پالتو کی قید وحشی گدھے یعنی گورخر(نیل گائے) کو نکالنے کے لیے ہے کہ وہ ہے حلال ہے اسلام میں پہلے گدھا حلال تھا پھر فتح خیبر کے دن ہمیشہ کے لیے حرام کردیا گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3147