Main Icon

باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3158

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّمَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي أَوَّلِ الإِسْلَام كَانَ الرَّجُلُ يَقْدَمُ الْبَلْدَةَ، لَيْسَ لَهُ بِهَا مَعْرِفَةٌ، فَيَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ بِقَدْرِ مَا يُرَى أَنَّهُ يُقِيمُ، فَتَحْفَظُ لَهُ مَتَاعَهُ وَتُصْلِحُ شَيَّهُ، حَتَّى إِذَا نَزَلَتِ الآيَةُ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكُلُّ فَرْجٍ سِوَاهُمَا فَهُوَ حَرَامٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن ابن عباس قال: إنما كانت المتعة في أول الإسلام كان الرجل يقدم البلدة، ليس له بها معرفة، فيتزوج المرأة بقدر ما يرى أنه يقيم، فتحفظ له متاعه وتصلح شيه، حتى إذا نزلت الآية إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم، قال ابن عباس: فكل فرج سواهما فهو حرام. رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ متعہ شروع اسلام تھا کہ کوئی شخص کسی شہر میں جاتا جہاں اس کی جان پہچان نہ ہوتی ۱؎تو کسی عورت سے اس وقت تک کے لیے نکاح کر لیتا کہ سمجھتا میں اتنا ٹھہروں گا وہ عورت اس کے سامان کی حفاظت کرتی اس کا کھانا درست کرتی ۲؎حتی کہ یہ آیت کریمہ اتری مگر اپنی بیویوں پر یا ان پر جن کے وہ مالک ہیں ۳؎فرمایا حضرت ابن عباس نے کہ دو کے سوا تمام شرمگاہیں حرام ہیں ۴؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎جو اس نو وارد کا انتظام کرتا اور اسے کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی جو یہاں اس کا انتظام کرے۔
۲
؎شی شویسے بنا بمعنی بھوننا اس لیے بھنے گوشت کو لحم مشوی کہا جاتا ہے یہاں بمعنی کھانا پکانا ہے،بعض نے فرمایا کہ شی بمعنی اشیاء ہے یعنی اسباب۔(مرقات)
۳
؎یعنی اس آیت کے نزول پر متعہ حرام ہوگیا کیونکہ ممتوعہ عورت نہ بیوی ہے نہ لونڈی تو لامحالہ رنڈی زانیہ ہو گی اور اسلام میں زنا تمام قسموں کے ساتھ حرام ہوچکا ہے۔
۴
؎خلاصہ یہ ہے کہ اب سوائے بیوی و لونڈی کے تمام عورتیں حرام ہیں اور ممتوعہ عورت ان دونوں کے سوا ہے اس لیے ممتوعہ عورت کو اس متاعی خاوند کی میراث نہیں ملتی نہ اس عورت کی خاوند کو نہ ممتوعہ عورت سے، روافض کے ہاں حرمت مصاہرت ثابت ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابن عباس نے متعہ کی حلت کے خیال سے رجوع فرمالیا۔ مسلم شریف میں ہے کہ حضرت علی نے سنا کہ حضرت عبداابن عباس متعہ حلال جانتے ہیں تو آپ نے فرمایا اے ابن عباس خبردار میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خود سنا کہ آپ نے خیبر کے دن متعہ اور پالتو گدھا حرام فرمایا، اسی مسلم شریف میں بروایت عروہ ابن زبیر ہے کہ عبداابن زبیر نے مکہ معظمہ میں فرمایا بعض آنکھوں اور دل کے اندھے اب تک متعہ کے جواز کا فتویٰ دے رہے ہیں تو حضرت ابن عباس نے فرمایا کہامام المتقینصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں متعہ ہوتا تھا اس پر حضرت زبیر نے فرمایا کہ اچھا تم اپنے پر تجربہ کرکے دیکھ لو اگر تم متعہ کرو تو میں تم کو بھی سنگسار کردوں، اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابن عباس نے جناب علی کے فرمان پر متعہ سے رجوع نہ کیا بہت عرصہ بعد رجوع فرمایا۔(مسلم،مرقات) تمام صحابہ حضرت ابن عباس کے فتویٰ جواز متعہ کے خلاف ہوگئے تھے حتی کہ ان کے خلاف شعر لکھے گئے جن میں سے دو شعر یہ ہیں۔ھل لك رخصۃ الاطراف آنسة تکون مثواك حتی مصدر الناس
قد قلت للشیخ لما طال محبسہ یا صاح ھل لك فی فتویٰ ابن عباس
حضرت ابن عباس نے یہ شعر سن کر فرمایا قسم رب کی میں نے متعہ کی حلت کا فتویٰ نہ دیا،متعہ تو خون،سور،مردار کی طرح حرام ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3158