Main Icon

باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3157

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مَعَنَا نِسَاءٌ، فَقُلْنَا: أَلَا نَخْتَصِي؟ فَنَهَانَا عَن ذَلِكَ، ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ،فَكَانَ أَحَدُنَا يَنْكِحُ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى أَجَلٍ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللّٰهِ: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن ابن مسعود قال: كنا نغزو مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس معنا نساء، فقلنا: ألا نختصي؟ فنهانا عن ذلك، ثم رخص لنا أن نستمتع،فكان أحدنا ينكح المرأة بالثوب إلى أجل، ثم قرأ عبد الله: ياأيها الذين آمنوا لا تحرموا طيبات ما أحل الله لكم. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے تھے ہمارے ساتھ بیویاں نہ تھیں تو ہم نے عرض کیا کیا ہم خصی ہوجائیں ۱؎اس سے ہم کو منع فرمایا ۲؎پھر ہم کو متعہ کرلینے کی اجازت دی ۳؎تو ہم میں سے ایک کسی عورت سے کپڑے کے عوض ایک وقت تک نکاح کرلیتا تھا ۴؎پھر عبداللہ نے یہ آیت پڑھی اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ جانو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کیں ۵؎(مسلم بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی قوت بہادری،تقویٰ اور خوف خدا کا پتہ لگا کہ شہوت کا غلبہ ہے،بیوی ساتھ نہیں تو زنا تو کیا ہاتھ سے منی نکالنے کا بھی خیال نہیں فرماتے،خصی ہو کر اپنے کو ناقص کرلینا منظور ہے مگر گناہ منظورنہیں۔
۲
؎معلوم ہوا کہ انسان کا خصی کرنا حرام ہے خواہ آزاد ہو یا غلام جانور کا خصی کرنا جائز ہے جب کہ اس میں فائدہ ہو۔
۳
؎یہ وجہ تھی متعہ کی عارضی اجازت کی کہ شراب کی طرح یہ بھی آہستگی سے حرام کیا گیا۔
۴
؎خیال رہے کہ متعہ اور نکاح مؤقت کے الفاظ میں فرق ہوتا ہے متعہ میںاتمتعکہتے ہیں اور نکاح وقتی میںتزوجت الی فلان مدۃبولتے ہیں۔ متعہ کی حرمت پر اجماع امت ہے نکاح مؤقت کو جمہور علماء حرام فرماتے ہیں، امام زفر فرماتے ہیں کہ نکاح درست ہے اور یہ مدت کی شرط باطل یعنی وقتی نکاح دائمی ہوگا۔
۵
؎اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود متعہ یا نکاح مؤقت کے جواز کے قائل تھے لیکن یہاں مرقات نے فرمایا کہ حضرت عبداابن عباس اور ابن مسعود دونوں متعہ کے جواز کے قائل تھے مگر دونوں اس سے رجوع فرماگئے عبداابن عباس نے تو سعید ابن جبیر کے سمجھانے پر رجوع کیا اور حضرت ابن مسعود نے ان کے بعد غرضکہ جب ان دونوں کو اس کے ناسخ کا پتہ لگا رجوع کرلیا حضرت علی تو متعہ کی حلت کے قائل تھے ہی نہیں وہ اول ہی منسوخ مانتے تھے، تعجب ہے کہ روافض متعہ کی حلت میں حضرت ابن مسعود کا پہلا قول تو مان لیتے ہیں اور حضرت علی کا قول نہیں مانتے جناب علی متعہ کو حرام فرماتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3157