Main Icon

باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3146

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشِّغَارِ، وَالشِّغَارُ: أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الآخَرُ ابْنَتَهُ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: قَالَ: "لَا شِغَارَ فِي الإِسْلَامِ".

وعن ابن عمر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الشغار، والشغار: أن يزوج الرجل ابنته على أن يزوجه الآخر ابنته وليس بينهما صداق. متفق عليه. وفي رواية لمسلم: قال: "لا شغار في الإسلام".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا ۱؎شغار یہ ہے کہ ایک شخص اپنی بیٹی کا نکاح کرے اس شرط پر کہ وہ دوسرا اپنی بیٹی کا نکاح کردے ۲؎اور ان دونوں کے درمیان کوئی مہر نہ ہو ۳؎(مسلم بخاری) اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا اسلام میں شغار نہیں ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎شغار بنا ہے شغر سے،بمعنی شہر کا خالی ہوجانا یا کسی کو جگہ سے ہٹانا دور ہوجانا۔(اشعہ)
۲
؎بیٹی کا ذکر مثالًا ہے۔اس میں بہن بھتیجی بھانجی وغیرہ سب داخل ہیں کہ کوئی شخص اپنی بیٹی یا بہن یا بھتیجی وغیرہ کا نکاح اس سے یا اس کے بیٹے وغیرہ سے کردے۔
۳
؎یعنی ہر نکاح دوسرے کا نکاح کا مہر ہو اس کے علاوہ اورکوئی مہر نہ ہو، خیال رہے کہ اگر یہ نکاح آپس میں ایک دوسرے کا مہر نہ ہوں صرف نکاح بشرط نکاح ہو تو بالاتفاق جائز ہے جیسا پنجاب میں عام طور پر ہوتا ہے کہ آمنے سامنے رشتہ لیا جاتا ہے،لیکن اگر کسی نکاح کا مہر نہ ہو،ہر نکاح دوسرے نکاح کا مہر ہو تو امام شافعی کے ہاں دونوں نکاح فاسد ہیں، ہمارے ہاں دونوں نکاح درست ہیں یہ شرط فاسد ہے ہر لڑکی کو مہر مثل ملے گا۔
۴
؎یعنی دور جاہلیت میں عرب میں نکاح شغار ہوتا تھا اسلام نے اسے منع فرمادیا،خیال رہے کہ اگر یہ شرط درست رہتی تو شغار بنتا جب احناف نے اس شرط کو باطل قرار دیا اور ہر لڑکی کو مہر مثل دلوایا تو شغار نہ رہا،لہذا یہ حدیث احناف کے خلاف نہیں جیسے دیگر فاسد شروط سے نکاح فاسد نہیں ہوتا بلکہ شرط فاسد ہوجاتی ہے ایسے ہی یہ نکاح بھی بالشرط ہے، جس میں نکاح درست اور شرط فاسد ہے جیسے کوئی شخص سوریا شراب کے عوض نکاح کرے تو نکاح درست ہے یہ شرط فاسد ہے مہر مثل دیا جائے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3146