Main Icon

باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3150

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "كُلُّ خُطْبَةٍ لَيْسَ فِيهَا تَشَهُّدٌ فَهِيَ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "كل خطبة ليس فيها تشهد فهي كاليد الجذماء". رواه الترمذي وقال: هذا حديث حسن غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر وہ خطبہ جس میں کلمہ شہادت نہ ہو وہ کوڑھ والے ہاتھ کی طرح ہے ۱؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎جذماءیا توجذمسے بنا بمعنی کٹ جانا یا جذام سے بمعنی کوڑھ یہاں دونوں معنی درست ہیں یعنی جو خطبہ شہادت توحید و رسالت سے خالی ہو وہ کٹے ہو ئے یا کوڑھ والے ہاتھ کی طرح ہے کہ بظاہر ہاتھ معلوم ہوتا ہے مگر ہاتھ والے کو فائدہ مند نہیں ایسے ہی ایسے خطبہ میں الفاظ تو سننے میں آتے ہیں مگر نہ وہ عنداللہ قبول ہے نہ اس پر ثواب نہ اس میں برکات۔معلوم ہوا کہ کلمہ شہادت بڑا ہی فائدہ مند عمل ہے یہ مسلمان کا زندگی و موت کا وظیفہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3150