Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3994

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَيَّمَا قَرْيَةٍ أَتَيْتُمُوْهَا وَأَقَمْتُمْ فِيهَا، فَسَهْمُكُمْ فِيهَا، وَأَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَإِنَّ خُمُسَهَا للّٰهِ وَلِرَسُوْلِهٖ ثُمَّ هِيَ لَكُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول صلى الله عليه وسلم: "أيما قرية أتيتموها وأقمتم فيها، فسهمكم فيها، وأيما قرية عصت الله ورسوله فإن خمسها لله ولرسوله ثم هي لكم". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس بستی میں تم پہنچو اور اس میں تم قیام کرو تو اس میں تمہارا حصہ ہے ۱؎اور جو بستیرسول کی نافرمانی کرے تو اس کا پانچواں حصہرسول کا ہے پھر بقیہ تمہارا ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کفار کی جو بستی بغیر جہاد کے صرف صلح سے قبضہ میں آجائے تو وہ غنیمت نہ ہوگی بلکہ فئ ہوگی جس میں سب مسلمان مجاہدین یا دوسرے برابر کے حق دار ہوں گے کہ فئ کا حکم یہ ہی ہوتا ہے۔اس فئ میں سے خمس بھی نہیں لیا جاتا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔ امام شافعی کے ہاں فئ میں سے بھی خمس لیا جائے گا،یہ حدیث ان کے خلاف ہے۔
۲
؎یعنی جو علاقہ جہادکر کے تم حاصل کرو وہ غنیمت ہوگا۔اس میں خمس نکال کر باقی چار حصے غازیوں پرتقسیم ہوں گے۔خیال رہے کہ جو شہر جنگ سے فتح ہو اس میں سلطان اسلام کو اختیار ہے خواہ وہ زمین وہاں کے باشندے اموال خمس نکال کر باقی چار حصےغازیوں میں تقسیم کردے جیسا کہ حضور انور نے خیبر میں کیا خواہ وہ زمین خود وہاں کے کفار باشندوں کے حوالہ کرکے ان پر جزیہ قائم کردے اور زمین پر عشر لگا دے اس لیے حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر مسلمانوں کی آئندہ نسلوں کا مجھے خیال نہ ہوتا تو جو علاقہ فتح ہوتا وہ میں بعد خمس غازیوں میں بانٹ دیتا جیساکہ حضور انور نے خیبر تقسیم فرمادیا۔حضور انور نے نصف خیبر تو اپنی ضروریات کے لیے اور نصف خیبر کے چھتیس حصے کیے ایک حصہ سو غازیوں کو دیا اور حضرت عمر نے عراق جہاد سے فتح فرمایا مگر اسے غازیوں میں تقسیم نہ کیا اور اس آیت سے دلیل پکڑی "مَاۤ اَفَآءَ اللہُ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ مِنْ اَھۡلِ الْقُرٰی وَ لِلرَّسُوۡلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰی"الی قولہ"وَ الَّذِیۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعْدِہِمْ"الخ تمام صحابہ نے آپ کا یہ فیصلہ مانا سوا سلمان فارسی و بلال کے پھر بعد میں یہ دونوں صاحب بھی مان گئے، یہ پوری بحث مرقات میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3994