Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4002

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمئِذٍ -يَعْنِي يَوْمَ حُنَيْنٍ-: "مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهٗ سَلَبُهٗ"، فَقَتَلَ أَبُوْ طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ. رَوَاهُ الدَّارمِيُّ.

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يومئذ -يعني يوم حنين-: "من قتل كافرا فله سلبه"، فقتل أبو طلحة يومئذ عشرين رجلا وأخذ أسلابهم. رواه الدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن یعنی حنین کے دن فرمایا کہ جو کسی کافر کو قتل کرے تو اس کافر کا سامان اسی کا ہوگا ۱؎چنانچہ اس دن ابو طلحہ نے بیس آدمی مارےاورانکے سامان لئے ۲؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎منکے عموم سے معلوم ہوتا ہے کہ جو مسلمان جہاد میں کافر کو قتل کرے اسے مقتول کا سامان ملے گا خواہ وہ غنیمت کے حصہ کا مستحق ہو یا نہ ہو لہذا غلام،بچہ،عورت،نوکر،تاجر وغیرہ بھی اس میں داخل ہیں۔بعض نے فرمایا کہمَنسے مراد صرف مجاہدین ہیں یعنی غنیمت کے حصے کے مستحق لوگ مگر اول احتمال قوی معلوم ہوتا ہے۔اسی سلب کے بارے میں اماموں کا اختلاف ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ احناف کے ہاں یہ قانون شرعی نہیں، اگر حاکم جہاد میں یہ اعلان کردے تو ملے گا ورنہ نہیں،شوافع کے ہاں یہ قانون ہے۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ یہ حکم صرف ایک سلب کے لیے نہیں جتنے مقتول مارے سب کا سامان لے۔سامان میں سواری،کپڑے، زیور،ہتھیار سب داخل ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4002