- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- حدیث نمبر 3989
باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3989
جہاد کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ قَالَ: بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَهْرِهٖ مَعَ رَبَاحٍ غُلَامِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْفَزَارِيُّ قَدْ أَغَارَ عَلٰى ظَهْرِ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، فَقُمْتُ عَلٰى أَكَمَةٍ، فَاسْتَقْبَلْتُ الْمَدِينَةَ فَنَاديتُ ثَلَاثًا: يَا صَبَاحَاهْ، ثُمَّ خَرَجْتُ فِي آثَارِ الْقَوْمِ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ، أَرْتَجِزُ وَأَقُوْلُ:
أنَا ابْنُ الأَكْوَعْ واليَومُ يَوْمُ الرُّضَّعْ فَمَا زِلْتُ أَرْمِيهِمْ، وَأَعْقِرُ بِهِمْ حتّٰى مَا خلَقَ اللّٰهُ مِنْ بَعِيرٍ مِنْ ظَهْرِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا خَلَّفْتُهٗ وَرَاءَ ظَهْرِي، ثُمَّ اتَّبَعْتُهُمْ أَرْمِيهِمْ، حَتَّى ألقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةٍ وَثَلَاثِينَ رُمْحًا، يَسْتَخِفُّوْنَ وَلَا يَطْرَحُوْنَ شَيْئًا إِلَّا جَعَلْتُ عَلَيْهِ آرَامًا مِنَ الْحِجَارَةِ، يَعْرِفُهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهٗ، حتّٰى رَأَيْتُ فَوَارِسَ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، وَلَحِقَ أَبُوْ قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهٗ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "خَيْرُ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُوْ قَتَادَةَ، وَخَيْرُ رَجَّالَتِنَا سَلَمَةُ" قَالَ: ثُمَّ أَعْطَانِي رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَيْنِ: سَهْمَ الْفَارِسِ وَسَهْمَ الرَّاجِلِ، فَجَمَعَهُمَا إِلَيَّ جَمِيعًا، ثُمَّ أَرْدَفَنِي رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهٗ عَلَى الْعَضْبَاءِ رَاجِعَيْنِ إِلَى الْمَدِينَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعن سلمة بن الأكوع قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم بظهره مع رباح غلام رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا معه، فلما أصبحنا إذا عبد الرحمن الفزاري قد أغار على ظهر رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فقمت على أكمة، فاستقبلت المدينة فناديت ثلاثا: يا صباحاه، ثم خرجت في آثار القوم أرميهم بالنبل، أرتجز وأقول:
أنا ابن الأكوع واليوم يوم الرضع فما زلت أرميهم، وأعقر بهم حتى ما خلق الله من بعير من ظهر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا خلفته وراء ظهري، ثم اتبعتهم أرميهم، حتى ألقوا أكثر من ثلاثين بردة وثلاثين رمحا، يستخفون ولا يطرحون شيئا إلا جعلت عليه آراما من الحجارة، يعرفها رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه، حتى رأيت فوارس رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، ولحق أبو قتادة فارس رسول الله صلى الله عليه وسلم بعبد الرحمن فقتله، قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "خير فرساننا اليوم أبو قتادة، وخير رجالتنا سلمة" قال: ثم أعطاني رسول الله صلى الله عليه وسلم سهمين: سهم الفارس وسهم الراجل، فجمعهما إلي جميعا، ثم أردفني رسول الله صلى الله عليه وسلم وراءه على العضباء راجعين إلى المدينة. رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی سواری اپنے غلام رباح کے ساتھ بھیجی اور میں ان کے ساتھ تھا۲؎تو جب ہم نے سویرا کیا تو اچانک عبدالرحمان فزاری نے رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی سواری پر حملہ کردیا ۳؎تو میں ایک ٹیلہ پر کھڑا ہوا ۴؎پھر مدینہ کی طرف منہ کیا اور ندا دی یا صباحاہ پھر میں اس قوم کے پیچھے چل پڑا ان پر تیر اندازی کرتا تھا ۵؎اور یہ گیت شجاعت کہتا تھا ۶؎کہ میں اکوع کا بیٹا ہوں،آج دودھ چھوٹنے کا دن ہے۷؎تو میں تیر مارتا رہا ان کے جانور کاٹتا رہا ۸؎حتی کہﷲنے حضور کی سواریوں میں سے کوئی اونٹ پیدا نہ فرمایا تھا مگر میں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھےکر لیا ۹؎پھر میں تیر مارتا ہوا ان کے پیچھے چلا حتی کہ وہ لوگ تیس چادروں سے زیادہ اور تیس نیزے پھینک گئے ۱۰؎ہلکا ہونے کے لیے اور وہ نہیں پھینکتے تھے ۱۱؎کوئی چیز مگر میں اس پر پتھروں کی نشانیاں رکھ دیتا تھا ۱۲؎جسے رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ پہچان لیں۱۳؎حتی کہ میں نے رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی سوار فوج دیکھ لی اور ابو قتادہ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوار عبدالرحمن پر جا پڑے اسے قتل کردیا۱۴؎رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ آج ہمارے بہترین سواروں میں بہترین سوار ابوقتادہ ہیں اورپیادوں میں بہترین ۱۵؎سلمہ ہیں پھر مجھے رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے دو حصے عطا فرمائے ایک حصہ سوار کا اور ایک حصہ پیادے کا یہ دونوں حصے میرے لیے جمع فرمادیئے ۱۶؎پھر مجھے رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے پیچھے عضباء پر سوار فرمایا ۱۷؎مدینہ منورہ لوٹتے ہوئے ۱۸؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎آپ مشہور صحابی ہیں،بہادری میں بے مثال تھے،اکیلے پیدل بہت سے سوار کفار سے لڑتے تھے،کنیت آپ کی ابو مسلم تھی،مدنی ہیں، بیعۃ الرضوان میں شریک رہے،اسی۸۰ سال عمر ہوئی، ۷۴ ∞ چوہتّرہجری میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔( اکمال،اشعہ وغیرہ)
۲؎ظہر اس اونٹ کو کہتے ہیں جس کی پشت سواری کے کام آتی ہو یعنی سواری کا اونٹ۔رباح ر کے فتحہ سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے غلام ہیں یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے کچھ لائق سواری اونٹ مدینہ منورہ سے کسی جگہ بھیجے ان کی حفاظت کے لیے میں اور رباح بھیجے گئے۔
۳؎عبدالرحمن فزاری عرب کا مشہور کافر ڈاکو تھا جس کے ساتھ اس کے ساتھیوں کی جماعت تھی جیسے اب بھی مشہو ر ڈاکو جتھہ والے ہوتے ہیں،اس ڈاکو نے اس موقعہ پر صرف دو صحابیوں کو دیکھ کر حضور انور کے اونٹ لوٹ لیے ہانک لے گیا،یہ واقعہ ۶ھ ∞ میں ہوا اس کا نام غزوہ ذی قرد ہے،قرد مدینہ کے پاس ایک جگہ ہے۔(مرقات)
۴؎اکمہوہ بلند جگہ جو پہاڑ سے چھوٹی ہو جسے اردو میں ٹیلہ کہا جاتا ہے۔
۵؎عرب میں خطرہ شدیدہ کا اعلان کرنے کے لیےیا صباحکا لفظ پکارا جاتا تھا گویا یہ لفظ خطرہ کا الارم تھا۔عمومًا دشمن کا حملہ بوقت صبح ہوتا تھا اس لیے یہ لفظ پکارا جاتا تھا یعنی ہائے اے لوگو صبح کے وقت کا انتظام کرلو صبح کو تم پر حملہ ہونے والا ہے،یہ بھی حضرت سلمہ ابن اکوع کی کرامت تھی کہ ایک ٹیلہ پر کھڑے ہوکر اپنی پکار تمام مدینہ میں پہنچادی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ بنا کر جو آواز دی کہ اےﷲکے بندوﷲکے گھر کی طرف آؤ وہ تمام عالم میں پہنچ گئی تاقیامت آنے والی روحوں نے سن لی یہ معجزہ حضرت ابراہیم کا تھا۔
۶؎یہ ہے حضرت سلمہ کی بہادری کہ مسلمانوں کی کمک پہنچنے کا انتظارنہ کیا صرف اطلاع دےکر اکیلے ہی پوری جماعت کے پیچھے پیدل لگ گئے عربی میں رجز ان اشعار کو کہا جاتا ہے جو جنگ کے وقت بہادر اپنی بہادری کے اظہار کے لیے پڑھا کرتے ہیں کفار کے مقابل فخر کرنا عبادت ہے۔
۷؎رضعر کے پیش ض کے شد و زبر سے یا توراضعبمعنی خبیث کی جمع ہے یارضیعبمعنی ماں کا دودھ چھوڑا ہوا، بچہ کی جمع ہے یعنی آج کمینوں کی سزا کا دن ہے یا آج تم شیرخوار کمزور بچوں کی ہلاکت کا دن ہے یا تم کو رضیع بنادینے کا دن ہے اور بھی اس کے بہت معنی کیے گئے ہیں۔
۸؎اعقربنا ہےعقرسے بمعنی پاؤں یا کونچیں کاٹنا۔اس سے مراد ہے جانوروں کا ہلاک کردینا یعنی ان ڈاکوؤں کو بھی مارتا رہا اور تاک تاک کر ان کے جانوروں کو بھی ہلاک کرتا رہا جس سے وہ لوگ میری طرح پیادے ہوتے رہے۔
۹؎یعنی مجھ اکیلے نے حضور انور کے سارے اونٹ ان ڈاکوؤں سے چھین کر اپنے قبضہ میں کرلیے کہ انہیں اپنے پیچھے کرلیا میں ان کے آگے ہو گیا اور ڈاکوؤں کے پیچھے دوڑتا رہا ۔
۱۰؎عربی میں مخطط اور حاشیہ والی چادر کو بھیبردہکہتے ہیں اورمربعکمبل کو بھی جو بدوی لوگ پہنتے ہیں یہاں دونوں مراد ہوسکتے ہیں
۱۱؎یعنی ان کافر ڈاکوؤں کو اپنی چادریں کمبل ، ہتھیار بھاگڑ میں سنبھالنا مشکل ہوگئے تو انہوں نے ان چیزوں کو وبال سمجھ کر پھینک دینے میں اپنی نجات جانی تاکہ ان کے بوجھ سے ہلکے ہوں اور بھاگنے میں آسانی پائیں،یہ ہے اس محمدی کچھار کے شیرکی دلیری رضی اللہ عنہ۔
۱۲؎یعنی میں نے ان میں سے کوئی چیز اٹھائی بھی نہیں تاکہ مجھے ان کے پیچھا کرنے میں آسانی رہے اور بغیر علامت چھوڑی بھی نہیں تاکہ میرے پیچھے آنے والے صحابہ ان پر قبضہ کرلیں۔
۱۳؎عرب کا دستور کہ جب کوئی شخص کسی چیز پر علامت ڈال دیتا تھا تو اس کے پیچھے آنے والے ساتھی اسے اٹھالیتے تھے۔
۱۴؎یعنی حضرت ابو قتادہ میرے اس راستے سے کترا کر دوسری طرف سے ڈاکوؤں کے سردار عبدالرحمن فزاری تک پہنچ گئے اور اسے قتل کردیا،یہ ہے دشمن کو گھیرے میں لے لینا جو آج بڑا کما ل سمجھا جاتا ہے،یہ صحابہ کرام کا معمولی عمل تھا۔
۱۵؎یعنی اس غزوہ ذی قرد میں حضرت سلمہ نے تو پیادہ فوج کا کمال دکھایا اور ابوقتادہ نے سوار فوج کا کمال دکھایا۔دونوں اپنے اپنے فن میں بڑے ہی کامل ظاہر ہوئے۔فرسان جمع ہے فارس کی بمعنی گھوڑا سوار۔رجالجیم کی شد سے جمع ہےراجلکی بمعنی پیدل جیسے سائر کی جمع سیارہ اور ناظر کی جمع نظارہ ۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: (۱) جنگ کے وقت رجز پڑھنا سنت ہے(۲) دشمن کے جانور جنگ میں قتل کردینا جائز ہے جس سے ان کا زور ٹوٹے(۳)فخریہ طور پر یہ کہنا کہ فلاں کا بیٹا ہوں ایسے موقعہ پر جائز ہے (۴)کسی کے سامنے اس کی تعریف کرنا جائز ہے جب کہ اس میں مصلحت ہو(۵) اپنے کو راہِ خدا میں خطرہ میں پھنسا دینا اعلیٰ درجہ کا جہاد ہے،دیکھو حضرت سلمہ نے اکیلے اتنے گروہ پر حملہ کردیا حالانکہ آپ پیدل تھے(۶) ضرورت کے وقت امام سے بغیر اجازت لیے کفار پر حملہ کردینا بھی جائز ہے۔
۱۶؎یہ دو حصوں کا جمع فرمادینا بطور نفل تھا جو بہادری کے انعام میں دیا گیا۔سوار کے حصے سے مراد یا تو دوہرا حصہ ہے جیسا کہ احناف کہتے ہیں یا تہرا حصہ جیساکہ شوافع کا قول ہے یعنی مجھے تین یا چار حصے دیئے باقی حصے دوسرے ساتھ آنے والے صحابہ کو عطا فرمائے کیونکہ جو بارادۂ جہاد میں پہنچ جائے اگرچہ وہ جہاد نہ بھی کرے تب بھی غنیمت میں حصہ لے گا۔
۱۷؎یہ بہادری و جرات کا تمغہ عطا ہوا یعنی اپنا قرب جو تمام انعامات سے افضل تھا۔
۱۸؎عضبامؤنث ہےاعضبکا بمعنی کان کٹا جانور تو عضباء کے معنی ہوئے کان کٹی اونٹنی حضور کی یہ اونٹنی پیدائشی طورپر کان کٹی تھی بعد میں کان کاٹے نہ گئے تھے۔(اشعہ)اس اونٹنی کا نام قصواء بھی تھا۔اس لحاظ سے یعنی حضور انور نے مجھے اس بہادری کے صلہ میں یہ تمغہ عطا فرمایا کہ اپنا ردیف بناکر مجھے مدینہ منورہ تک لائے یہ حدیث بخاری و مسلم دونوں میں ہے۔(مرقات) مگر مشکوۃ کے بعض نسخوں میں بخاری کا حوالہ ہے بعض میں مسلم کا۔خیال رہے کہراجعینتثنیہ بھی ہوسکتا ہے اور جمع بھی دونوں درست ہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3989